خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 157 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 157

خلافة على منهاج النبوة ۱۵۷ جلد دوم رسول کریم ﷺ کی یہ بات حضرت عمر نے سن لی اور آپ کو اسے پورا کرنے کا موقع مل گیا۔آخر حضرت عمر رسول کریم علیہ کی ہر بات تو نہیں سنا کرتے تھے ممکن ہے یہ بات کسی اور کے کان میں پڑتی اور وہ آگے کسی اور کو بتا نا بُھول جاتا مگر اس معجزے کا ایک یہ بھی حصہ ہے کہ جس شخص کے پاس سونے کے کڑے پہنچنے تھے اسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ کشف پہنچ چکا تھا۔پھر اُسی معجزہ کا یہ بھی حصہ ہے کہ حضرت عمرؓ کے دل میں اللہ تعالیٰ نے یہ تحریک پیدا کر دی کہ وہ اس صحابی کو سونے کے کڑے پہنا ئیں حالانکہ شریعت کے لحاظ سے مردوں پہنائیں کیلئے سونا پہنا ممنوع ہے مگر چونکہ اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیشگوئی کو پورا کرنا چاہتا تھا اس لئے آپ کے دل کو اس نے اس طرف مائل کر دیا کہ مردوں کے سونا نہ میں جو حکمتیں ہیں وہ بھی بے شک اچھی ہیں مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش کو پورا کرنے کیلئے کسی کو تھوڑی دیر کیلئے سونے کے کڑے پہنا دینا بھی کوئی بُری بات نہیں ہو سکتی۔چنانچہ انہوں نے اس صحابی کو اپنے سامنے سونے کے کڑے پہنائے۔۵۳ خلفائے راشدین کی وفات کے بعد اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ خلفائے راشدین فوت ہو گئے تو اُن کی وفات کے سالہا بھی اُن کا خوف امن سے بدلتا رہا سال بعد خدا تعالیٰ نے اُن کے خوف کو امن سے بدلا۔کبھی سو سال کے بعد کبھی دوسو سال کے بعد، کبھی تین سو سال کے بعد، کبھی چارسو سال کے بعد اور کبھی پانچ سو سال کے بعد اور اس طرح ظاہر کر دیا کہ خدا اُن سے محبت رکھتا ہے اور وہ نہیں چاہتا کہ اُن کے ارادے رائیگاں جائیں۔اگر اس ساری آیت کو قوم کی طرف منسوب کر دیا جائے تب بھی کوئی حرج نہیں کیونکہ اس صورت میں بھی وہی معنی لئے جائیں گے جن کو میں نے بیان کیا ہے۔یعنی اس صورت میں بھی ساری قوم کو اگر کوئی خوف ہوسکتا تھا تو وہ کفار کے اسلام پر غلبہ کا ہوسکتا تھا۔فردی طور پر تو کسی کو خوف ہو سکتا ہے کہ میرا بیٹا نہ مر جائے یا کسی کو خوف ہو سکتا ہے کہ مجھے تجارت میں نقصان نہ پہنچ جائے مگر قوم کا خوف تو قومی ہی ہو سکتا ہے اور وہ خوف بھی پھر یہی بن جاتا ہے کہ ایسا نہ ہو اسلام پر کفار غالب آجائیں سو قوم کا یہ خوف بھی اسلام کے ذریعہ ہی دور ہوا اور اسلام کو ایسا زبردست غلبہ