خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 156 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 156

خلافة على منهاج النبوة جلد دوم خوف پیدا ہوا تو اس کی وجہ یہ تھی کہ عام مسلمانوں کی حالت ایسی ہو چکی تھی کہ اب وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک خلافت کے انعام کے مستحق نہیں رہے تھے۔پس میرا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو عام خوفوں سے محفوظ نہیں رکھتا بلکہ مطلب یہ ہے کہ اصل وعدہ اس آیت میں اسی خوف کے متعلق ہے جس کو وہ خوف قرار دیں۔اور وہ بجائے کسی اور بات کے ہمیشہ اس ایک بات سے ہی ڈرتے تھے کہ اُمت محمدیہ میں گمراہی اور ضلالت نہ آ جائے۔سوخدا کے فضل سے اُمت محمدیہ ایسی ضلالت سے محفوظ رہی اور باوجود بڑے بڑے فتنوں کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی وفات کے بعد اس کی ہدایت کے سامان ہوتے رہے۔اور اصل معجزہ یہی ہوتا ہے کہ کسی کی وفات کے بعد بھی اس کی خواہشات پوری ہوتی رہیں۔زندگی میں اگر کسی کی خواہشیں پوری ہوں تو کہا جا سکتا ہے کہ اس نے تدبیروں سے کام لے لیا تھا مگر جس کی زندگی ختم ہو جائے اور پھر بھی اس کی خواہشیں پوری ہوتی رہیں اس کے متعلق نہیں کہا جا سکتا کہ اس نے کسی ظاہری تدبیر سے کام لے لیا ہوگا بلکہ یہ امر اس بات کا ثبوت ہوگا کہ وہ شخص خدا تعالیٰ کا محبوب اور پیارا تھا اور اللہ تعالیٰ کا اس سے گہرا تعلق تھا۔رسول کریم ﷺ کا ایک کشف اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے رسول کریم صلى الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کشفی حالت میں جو آپ کی وفات کے بعد پورا ہوا ایک شخص کے ہاتھوں میں شہنشاہ ایران کے سونے کے کڑے دیکھے۔اب رسول کریم ﷺ کا معجزہ یہ نہیں کہ آپ نے اس کے ہاتھ الله میں سونے کے کڑے دیکھے بلکہ معجزہ یہ ہے کہ باوجود اس کے کہ رسول کریم ﷺ فوت ہو گئے ایک لمبا عرصہ گزرنے کے بعد مال غنیمت میں سونے کے کڑے آئے اور باوجو داس کے کہ شریعت میں مردوں کو سونے کے کڑے پہنے ممنوع ہیں اللہ تعالیٰ نے حضرت عمرؓ کے دل میں یہ جذ بہ پیدا کر دیا کہ وہ رسول کریم ﷺ کے اس کشف کو پورا کرنے کیلئے اسے سونے کے کڑے پہنا ئیں چنانچہ آپ نے اسے پہنا دیئے۔پس اس واقعہ میں معجزہ یہ ہے کہ با وجود یکه رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو چکے تھے ، اللہ تعالیٰ نے حضرت عمرؓ کے دل میں رسول کریم ﷺ کی ایک پیشگوئی کو پورا کرنے کا جذبہ پیدا کر دیا۔پھر یہ بھی معجزہ ہے کہ