خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 158
خلافة على منهاج النبوة ۱۵۸ جلد دوم حاصل ہوا جس کی اور کہیں مثال نہیں ملتی۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلفائے راشدین کا غیر مسلم بادشاہوں پر رعب زمانہ میں جب مسلمانوں کے اندرونی جھگڑے اور مناقشات بہت بڑھ گئے تو ایک دفعہ روم کے بادشاہ کو خیال آیا کہ یہ وقت مسلمانوں پر حملہ کرنے کیلئے بہت اچھا ہے وہ آپس میں لڑ رہے ہیں اور اُن کی طاقت اندرونی خانہ جنگی کی وجہ سے کمزور ہو چکی ہے اس لئے مسلمانوں پر اگر حملہ کیا گیا تو وہ بہت جلد شکست کھا جائیں گے۔جب یہ افواہ اُڑتے اڑتے حضرت معاویہ تک پہنچی تو انہوں نے اس بادشاہ کو کہلا بھیجا کہ یا درکھو اگر تم نے مسلمانوں پر حملہ کیا تو علی کی طرف سے پہلا جرنیل جو تمہارے خلاف لڑنے کیلئے نکلے گا وہ میں ہونگا۔جب یہ پیغام اسے پہنچا تو اس نے لڑائی کا ارادہ فوراً ترک کر دیا۔یہ واقعہ بھی بتاتا ہے کہ خلفاء کا بہت بڑا رُعب تھا کیونکہ جب اسے معلوم ہوا کہ معاویہ بھی علی کے ماتحت ہو کر مجھ سے لڑنے کیلئے آ جائے گا تو وہ دم بخودرہ گیا اور اس نے سمجھ لیا کہ لڑائی کرنا میرے لئے مفید نہیں ہوگا۔(۶) خلفاء کی چھٹی علامت سچے خلفاء توحید حقیقی کے علمبردار ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ نے یہ بتائی ہے کہ يَعْبُدُونَتِي لا يُشْرِكُونَ بي شَيْئًا وہ خلفاء میری عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے یعنی اُن کے دلوں میں خدا تعالیٰ غیر معمولی جرات اور دلیری پیدا کر دے گا اور اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں کسی اور کا خوف اُن کے دل میں پیدا نہیں ہوگا۔وہ لوگوں کے ڈر سے کوئی کام نہیں کریں گے بلکہ اللہ تعالیٰ پر توکل رکھیں گے اور اُسی کی خوشنودی اور رضا کیلئے تمام کام کریں گے۔یہ معنی نہیں کہ وہ بُت پرستی نہیں کریں گے۔بُت پرستی تو عام مسلمان بھی نہیں کرتے کجا یہ کہ خلفاء کے متعلق یہ کہا جائے کہ وہ بُت پرستی نہیں کریں گے۔پس یہاں بت پرستی کا ذکر نہیں بلکہ اس امر کا ذکر ہے کہ وہ بندوں سے ڈر کر کسی مقام سے اپنا قدم پیچھے نہیں ہٹائیں گے بلکہ جو کچھ کریں گے خدا کے منشا اور اُس کی رضاء کو پورا کرنے کیلئے کریں گے اور اس امر کی ذرا بھی پرواہ نہیں کریں گے کہ اس راہ میں اُنہیں کن بلاؤں اور