خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 155
خلافة على منهاج النبوة ۱۵۵ جلد دوم سے خائف تھے تو اس سے کہ اسلام کی روشنی میں فرق نہ آئے۔سو باوجود ان واقعات کے وہی بات آخر قائم ہوئی جسے یہ لوگ قائم کرنا چاہتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے خوف کو امن سے بدل دیا۔حضرت علی کی شہادت یہی حال حضرت علیؓ کا ہے۔اُن کے دل کا خوف بھی صرف صداقت اور روحانیت کی اشاعت کے بارہ میں تھا۔سو اللہ تعالیٰ نے اس خوف کو امن سے بدل دیا۔یہ ڈر نہیں تھا کہ لوگ میرے ساتھ کیا سلوک کریں گے۔چنانچہ باوجود اس کے کہ حضرت معاویہؓ کا لشکر بعض دفعہ حضرت علیؓ کے لشکر سے کئی کئی گنے زیادہ ہوتا تھا آپ اس کی ذرا بھی پرواہ نہیں کرتے تھے اور یہی فرماتے تھے کہ جو کچھ قرآن کہتا ہے وہی مانوں گا اس کے خلاف میں کوئی بات تسلیم نہیں کر سکتا۔اگر محض لوگوں کی مخالفت کو ہی خوفناک امر قرار دے دیا جائے تب تو ماننا پڑے گا کہ انبیاء ( نَعُوذُ بِاللهِ ) ہمیشہ لوگوں سے ڈرتے رہے کیونکہ جتنی مخالفت لوگ ان کی کرتے ہیں اتنی مخالفت اور کسی کی نہیں کرتے۔بہر حال دنیا کی مخالفت کو ئی حقیقت نہیں رکھتی اور نہ خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ وليُبَةِ لَنَّهُمْ مِنْ بَعْدَ الْخَوْفِ آمَنَّا بلکہ وَليبَة لَنَّهُمْ مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ آمنا فرمایا ہے یعنی جس چیز سے وہ ڈرتے ہوں گے اسے اللہ تعالیٰ دور کر دے گا اور ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا اور جیسا کہ میں بتا چکا ہوں وہ صرف اس بات سے ڈرتے تھے کہ امت محمدیہ میں گمراہی اور ضلالت نہ آ جائے۔سوامت محمدیہ کو اللہ تعالیٰ نے ان کی اس توجہ اور دعا کی برکت سے بحیثیت مجموعی ضلالت سے محفوظ رکھا اور اہل السنت والجماعت کا مذہب ہی دنیا کے کثیر حصہ پر ہمیشہ غالب رہا۔اللہ تعالیٰ اپنے خلفاء کو عام میں نے اس آیت کے جو معنی کئے ہیں کہ اس جگہ خوف سے مراد عام خوف نہیں بلکہ وہ خوف خوف سے بھی محفوظ رکھتا ہے ہے جسے خلفاء کا دل محسوس کرتا ہو اس کا یہ مطلب نہیں کہ انہیں عام خوف ضرور ہوتا ہے بلکہ عام خوف بھی اللہ تعالیٰ اُن سے دور ہی رکھتا ہے سوائے اس کے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی کوئی مصلحت ہو۔جیسے حضرت علیؓ کے زمانہ میں جب