خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 154
خلافة على منهاج النبوة ۱۵۴ جلد دوم کوئی اور کام کو سنبھالنے والا ہی نہیں۔مگر حضرت عثمان نے یہ بات بھی نہ مانی اور کہا یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ جن لوگوں کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمع کیا ہے میں انہیں جلا وطن کر دوں۔حضرت معاویہ یہ سن کر رو پڑے اور انہوں نے عرض کیا اگر آپ اور کچھ نہیں کرتے تو اتنا ہی اعلان کر دیں کہ میرے خون کا بدلہ معاویہ لے گا۔آپ نے فرمایا معاویہ! تمہاری طبیعت تیز ہے میں ڈرتا ہوں کہ مسلمانوں پر تم کہیں سختی نہ کرو اس لئے میں یہ اعلان بھی نہیں کر سکتا۔اب کہنے کو تو یہ کہا جاتا ہے کہ حضرت عثمان دل کے کمزور تھے مگر تم خود ہی بتاؤ کہ اس قسم کی جرات کتنے لوگ دکھا سکتے ہیں اور کیا ان واقعات کے ہوتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ اُن کے دل میں کچھ بھی خوف تھا۔اگر خوف ہوتا تو وہ کہتے کہ تم اپنی فوج کا ایک دستہ میری حفاظت کیلئے بھجوا دو، انہیں تنخواہیں میں دلا دوں گا اور اگر خوف ہوتا تو آپ اعلان کر دیتے کہ اگر مجھ پر کسی نے ہاتھ اٹھایا تو وہ سن لے کہ میرا بدلہ معاویہ لے گا۔مگر آپ نے سوائے اِس کے کوئی جواب نہ دیا کہ معاویہ ! تمہاری طبیعت تیز ہے میں ڈرتا ہوں کہ اگر میں نے تم کو یہ اختیار دے دیا تو تم مسلمانوں پر سختی کرو گے۔پھر جب آخر میں دشمنوں نے دیوار پھاند کر آپ پر حملہ کیا تو بغیر کسی ڈر اور خوف کے اظہار کے آپ قرآن کریم کی تلاوت کرتے رہے یہاں تک کہ حضرت ابوبکر کا ایک بیٹا اللہ تعالیٰ اُس پر رحم کرے) آگے بڑھا اور اُس نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی ڈاڑھی پکڑ کر اُسے زور سے جھٹکا دیا۔حضرت عثمان نے اُس کی طرف آنکھ اُٹھائی اور فرمایا۔میرے بھائی کے بیٹے! اگر تیرا باپ اس وقت ہوتا تو تو کبھی ایسا نہ کرتا۔یہ سنتے ہی اُس کا سر سے لیکر پیر تک جسم کانپ گیا اور وہ شرمندہ ہو کر واپس لوٹ گیا۔اس کے بعد ایک اور شخص آگے بڑھا اور اس نے ایک لوہے کی سیخ حضرت عثمان کے سر پر ماری اور پھر آپ کے سامنے جو قرآن پڑا ہوا تھا اُسے اپنے پاؤں کی ٹھوکر سے الگ پھینک دیا۔وہ ہٹا تو ایک اور شخص آگے آ گیا اور اس نے تلوار سے آپ کو شہید کر دیا۔ان واقعات کو دیکھ کر کون کہہ سکتا ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ان واقعات سے خائف تھے اور جب وہ ان واقعات ت سے خائف ہی نہ تھے تو من بَعْدِ خَوْفِهِمْ آمَنَّا کے خلاف یہ واقعات کیونکر ہو گئے۔یہ لوگ تو اگر کسی امر