خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 142
خلافة على منهاج النبوة ۱۴۲ جلد دوم غیر مبائع ہمیشہ اس بات پر زور دیا کرتے ہیں کہ ان آیات میں خلافت کا جو وعدہ کیا گیا ہے وہ افراد سے نہیں بلکہ اُمت سے ہے اور میں نے ان کی یہ بات مان لی ہے۔میں بھی یہی کہتا ہوں کہ یہ وعدہ اُمت سے ہے اور اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ جب تک وہ ایمان اور عمل صالح پر کار بند رہے گی اس کا یہ وعدہ پورا ہوتا رہے گا۔(۳) اس وعدہ کی غرض یہ ہے کہ (الف) مسلمان بھی وہی انعام پائیں جو پہلی قوموں نے پائے کیونکہ فرماتا ہے كما اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْرِهِمْ ( ب ) اس وعدہ کی دوسری غرض تمکین دین ہے۔( ج ) اس کی تیسری غرض مسلمانوں کے خوف کو امن سے بدل دینا ہے۔( د ) اس کی چوتھی غرض شرک کا دور کرنا اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کا قیام ہے۔اس آیت کے آخر میں وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذلِكَ فَأُولئِكَ هُمُ الفَسِقُونَ کہہ کر اس کے وعدہ ہونے پر پھر زور دیا اور وَلَئِن كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِي لَشَدِيد ٢٦ کے وعید کی طرف توجہ دلائی کہ ہم جو انعامات تم پر نازل کرنے لگے ہیں اگر تم ان کی ناقدری کرو گے تو ہم تمہیں سخت سزا دیں گے۔خلافت بھی چونکہ ہمارا ایک انعام ہے اس لئے یا د رکھو جو لوگ اس نعمت کی ناشکری کریں گے وہ فاسق ہو جائیں گے۔یہ آیت ایک زبردست شہادت خلافت راشدہ پر ہے اور اس میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور احسان مسلمانوں میں خلافت کا طریق قائم کیا جائے گا جو مُؤَيَّد مِنَ اللہ ہوگا۔(جیسا کہ وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحْتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ في الْأَرْضِ اور وليُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِى ارْتَضَى لَهُمْ سے ظاہر ہے ) اور مسلمانوں کو پہلی قوموں کے انعامات میں سے وافر حصہ دلانے والا ہوگا۔نیچے خلفاء کی علامات اس آیت میں خلفاء کی علامات بھی بتائی گئی ہیں جن سے بچے اور جھوٹے میں فرق کیا جا سکتا ہے اور وہ یہ ہیں :- (۱) خلیفہ خدا بنا تا ہے یعنی اس کے بنانے میں انسانی ہاتھ نہیں ہوتا ، نہ وہ خودخواہش