خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 141 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 141

خلافة على منهاج النبوة ۱۴۱ جلد دوم اطاعت رسول بھی ہوگی کیونکہ اطاعت رسول یہ نہیں کہ نمازیں پڑھو یا روزے رکھو یا حج کرو یہ تو خدا کے حکم کی اطاعت ہے۔اطاعت رسول یہ ہے کہ جب وہ کہے کہ اب نمازوں پر زور دینے کا وقت ہے تو سب لوگ نمازوں پر زور دینا شروع کر دیں اور جب وہ کہے کہ اب زکوۃ اور چندوں کی ضرورت ہے تو وہ زکوۃ اور چندوں پر زور دینا شروع کر دیں اور جب وہ کہے کہ اب جانی قربانی کی ضرورت ہے یا وطن کو قربان کرنے کی ضرورت ہے تو وہ جانیں اور اپنے وطن قربان کرنے کیلئے کھڑے ہو جائیں۔غرض یہ تینوں باتیں ایسی ہیں جو خلافت کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں اگر خلافت نہ ہوگی تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہاری نمازیں بھی جاتی رہیں گی تمہاری زکوتیں بھی جاتی رہیں گی ، اور تمہارے دل سے اطاعت رسول کا مادہ بھی جاتا رہے گا۔ہماری جماعت کو چونکہ ایک نظام کے ماتحت رہنے کی عادت ہے اور اس کے افراد اطاعت کا مادہ اپنے اندر رکھتے ہیں اس لئے اگر ہماری جماعت کے افراد کو آج اُٹھا کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں رکھ دیا جائے تو وہ اسی طرح اطاعت کرنے لگ جائیں جس طرح صحابہ اطاعت کیا کرتے تھے لیکن اگر کسی غیر احمدی کو اپنی بصیرت کی آنکھ سے تم اس زمانہ میں لے جاؤ تو تمہیں قدم قدم پر وہ ٹھوکریں کھاتا دکھائی دے گا اور وہ کہے گا کہ ذرا ٹھہر جائیں مجھے فلاں حکم کی سمجھ نہیں آئی بلکہ جس طرح ایک پٹھان کے متعلق مشہور ہے کہ اس نے کہہ دیا تھا ”خو محمد صاحب کا نماز ٹوٹ گیا۔قدوری میں لکھا ہے کہ حرکت صغیرہ سے نماز ٹوٹ جاتا ہے۔اسی طرح وہ بعض باتوں کا انکار کرنے لگ جائے گا۔لیکن اگر ایک احمدی کو لے جاؤ تو اس کو پتہ بھی نہیں لگے گا کہ وہ کسی غیر مانوس جگہ میں آ گیا ہے بلکہ جس طرح مشین کا پُرزہ فوراً اپنی جگہ پر فٹ آ جاتا ہے اسی طرح وہ وہاں پر فٹ آ جائے گا اور جاتے ہی محمد رسول اللہ علیہ کا صحابی بن جائے گا۔است استخلاف کے مضامین کا خلاصہ غرض یہ آیت جو آیت استخلاف کہلاتی ہے اس کے مفہوم کا خلاصہ یہ ہے کہ : - (1) جس بات کا ذکر کیا گیا ہے ، وہ ایک وعدہ ہے۔(۲) وعدہ اُمت سے ہے جب تک وہ ایمان و عمل صالح پر کار بندر ہے۔