خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 143
خلافة على منهاج النبوة ۱۴۳ جلد دوم کرتا ہے اور نہ کسی منصوبہ کے ذریعہ وہ خلیفہ ہوتا ہے بلکہ بعض دفعہ تو ایسے حالات میں ہوتا ہے جب کہ اُس کا خلیفہ ہونا بظاہر ناممکن سمجھا جاتا ہے۔چنانچہ یہ الفاظ کہ وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصلحت خود ظاہر کرتے ہیں کہ خلیفہ خدا ہی بناتا ہے کیونکہ جو وعدہ کرتا ہے وہی دیتا ہے۔بعض لوگ غلطی سے یہ کہتے ہیں کہ اس وعدے کا یہ مطلب ہے کہ لوگ جس کو چاہیں خلیفہ بنا لیں ، خدا اُس کو اپنا انتخاب قرار دے دے گا۔مگر یہ ایسی ہی بات ہے جیسے ہمارے ایک استاد کا یہ طریق ہوا کرتا تھا کہ جب وہ مدرسہ میں آتا اور کسی لڑکے سے خوش ہوتا تو کہتا کہ اچھا تمہاری جیب میں جو پیسہ ہے وہ میں نے تمہیں انعام میں دے دیا۔یہ بھی ویسا ہی وعدہ بن جاتا ہے کہ اچھا تم کسی کو خود ہی خلیفہ بنا لو اور پھر یہ سمجھ لو کہ اُسے میں نے بنایا ہے۔اور اگر یہی بات ہو تو پھر انعام کیا ہوا اور ایمان اور عملِ صالح پر قائم رہنے والی جماعت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے محبت کا امتیازی سلوک کونسا ہوا ؟ وعدہ تو جو کرتا ہے وہی اسے پورا بھی کیا کرتا ہے نہ یہ کہ وعدہ تو وہ کرے اور اسے پورا کوئی اور کرے۔پس اس آیت میں پہلی بات یہ بتائی گئی ہے کہ خلفاء کی آمد خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو گی۔ظاہری لحاظ سے بھی یہ بات ثابت ہوتی ہے کیونکہ کوئی شخص خلافت کی خواہش کر کے خلیفہ نہیں بن سکتا اسی طرح کسی منصوبہ کے ماتحت بھی کوئی خلیفہ نہیں بن سکتا۔خلیفہ وہی ہو گا جسے خدا بنانا چاہے گا بلکہ بسا اوقات وہ ایسے حالات میں خلیفہ ہو گا جب کہ دنیا اس کے خلیفہ ہونے کو ناممکن خیال کرتی ہوگی۔(۲) دوسری علامت اللہ تعالیٰ نے بچے خلیفہ کی یہ بتائی ہے کہ وہ اس کی مدد انبیاء کے مشابہ کرتا ہے۔کیونکہ فرمایا كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذينَ مِن قناهم که یہ خلفاء ہماری نصرت کے ویسے ہی مستحق ہونگے جیسے پہلے خلفاء۔اور جب پہلی خلافتوں کو دیکھا جاتا ہے تو وہ دو قسم کی نظر آتی ہیں۔اوّل خلافتِ نبوت۔جیسے آدم علیہ السلام کی خلافت تھی جس کے بارہ میں فرمایا کہ اِنِّي جَاعِلُ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً " میں زمین میں اپنا ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔اب آدم علیہ السلام کا انتخاب نہیں کیا گیا تھا اور نہ وہ دُنیوی بادشاہ تھے۔اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے ایک وعدہ کیا اور انہیں اپنی طرف سے زمین میں آپ کھڑا کیا اور جنہوں نے انکار