خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 128 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 128

خلافة على منهاج النبوة ۱۲۸ جلد دوم جانے کی صورت میں بھی ناممکن نہیں ہو جاتا جیسا کہ آج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ظہور سے اللہ تعالیٰ نے پیدا کر دیا ہے اگر لوگ ہم سے کہتے ہیں کہ تم چور کا ہاتھ کیوں نہیں کاٹتے ؟ تو ہم کہتے ہیں کہ یہ ہمارے بس کی بات نہیں لیکن جن امور میں ہمیں آزادی حاصل ہے ان امور میں ہم اپنی جماعت کے اندر اسلامی نظام کے قیام کی کوشش کرنا اپنا پہلا اور اہم فرض سمجھتے ہیں۔پس اگر مسلمان بھی سمجھتے کہ ہر وقت اور ہر زمانہ میں اولی الامر منكم کی اطاعت ان پر واجب ہے اور جن حصوں میں اولی الامر کی اطاعت ان کیلئے ناممکن تھی ان کو چھوڑ کر دوسرے حصوں کیلئے وہ نظام قائم رکھتے تو وہ اس حکم کو پورا کر نے والے بھی رہتے اور اسلام کبھی اس حالت کو نہ پہنچتا جس کو وہ اب پہنچا ہے۔مگر اللہ تعالیٰ کا شاید یہ منشا تھا کہ اسلامی حکم کا یہ حصہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی جماعت کے ذریعہ سے عمل میں آئے اور یہ فضیلت اس اخرین مِنْهُم " کی جماعت کو حاصل ہو کیونکہ آخر ہمارے لئے بھی کوئی نہ کوئی فضیلت کی بات رہنی چاہئے۔صحابہ نے تو یہ فضیلت حاصل کر لی کہ انہوں نے ایک دینی و دنیوی مشتر کہ نظام اسلامی اصول پر قائم کیا مگر جو خالص مذہبی نظام تھا اس کے قیام کی طرف اس نے ہمیں توجہ دلا دی۔گویا اس آیت کے ایک حصے پر صحابہ نے عمل کیا اور دوسرے حصے پر ہم نے عمل کر لیا۔پس ہم بھی صحابہ میں جا ملے۔خلاصہ یہ کہ اس آیت میں اسلامی نظام کے قیام کے اصول بیان کئے گئے ہیں اور یہ حکم دیا گیا ہے کہ (۱) اسلامی نظام انتخاب پر ہو۔(۲) یہ کہ مسلمان ہر زمانہ میں اولی الأمْرِ مِنْكُمْ کے تابع رہیں مگر افسوس کہ مسلمانوں نے اپنے تنزل کے زمانہ میں دونوں اصولوں کو بھلا دیا۔جہاں ان کا بس تھا انہوں نے انتخاب کو قائم نہ رکھا اور جو امور ان کے اختیار سے نکل گئے تھے ان کو چھوڑ کر جو اموران کے اختیار میں تھے ان میں بھی انہوں نے اُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ کا نظام قائم کر کے ان کی اطاعت سے وحدتِ اسلامی کو قائم نہ رکھا اور ان لغو بحثوں میں پڑ گئے کہ انہیں صرف أولى الامر منکم کی اطاعت کرنی چاہئے۔اور اس طرح جو اصل غرض اس حکم کی تھی وہ نظر انداز ہو گئی حالانکہ جو امران کے اختیار میں نہ تھا اس میں ان پر کوئی گرفت نہ تھی اگر وہ اس حصہ کو پورا کرتے جوان کے اختیار میں تھا۔