خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 129
خلافة على منهاج النبوة ۱۲۹ جلد دوم أُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْ کے اس جگہ شاید کوئی اعتراض کرے کہ احمد جماعت کی تعلیم تو یہ ہے کہ اولى الأمر منكم متعلق ایک اعتراض کا جواب میں غیر مذاہب کے اولی الامر بھی شامل ہیں اور اس آیت کے ماتحت غیر مسلم حکام کی اطاعت بھی فرض ہے۔مگر اب جو معنی کئے گئے ہیں اس کے ماتحت غیر مسلم آ ہی نہیں سکتے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ درست ہے لیکن یہ معنی صرف أولى الأمر منكم کے ٹکڑے سے نکلتے ہیں۔یعنی جب ہم کہتے ہیں کہ غیر مسلم أولي الأمر بھی اس میں شامل ہیں تو اس وقت ہم سارے رکوع کو مدنظر نہیں رکھتے بلکہ آیت کے صرف ایک ٹکڑہ سے اپنے دعوے کا استنباط کرتے ہیں لیکن یہ نکڑہ ساری آیتوں سے مل کر جو معنی دیتا ہے انہیں باطل نہیں کیا جا سکتا۔بیشک دُنیوی امور میں ہر اولی الامر کی اطاعت واجب ہے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ حکم بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ ہر زمانہ میں أولى الامر منکم کی اطاعت جو مسلمانوں میں سے ان کیلئے منتخب ہوں ان پر واجب ہے۔اولی الامر سے اختلاف کی صورت میں اب میں اس مضمون کو لیتا ہوں جس کے بیان رُدُّوهُ إِلَى اللهِ وَالرَّسُولِ کے کیا معنی ہیں؟ کرنے کا میں بچے والدہ کر آیا ہوں کہ بعض لوگ اس مقام پر یہ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ اولی الامر سے اختلاف کی صورت میں اللہ تعالی نے رُدُّوهُ إِلَى اللهِ وَ الرَّسُولِ فرمایا ہے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی اطاعت واجب نہیں بلکہ اختلاف کی صورت میں ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ خدا اور رسول کا کیا حکم ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر یہ معنی کئے جائیں تو آیت بالکل بے معنی ہو جاتی ہے۔کیونکہ ہر شخص اپنے خیال کو درست سمجھا کرتا ہے۔پس اگر اس آیت کا یہی مفہوم لیا جائے تو اطاعت کبھی ہو ہی نہیں سکتی۔آخر وہ کونسا امرایسا نکلے گا جسے تمام لوگ متفقہ طور پر خدا اور رسول کا حکم سمجھیں گے۔یقیناً کچھ لوگوں کو اختلاف بھی ہوا کرتا ہے۔پس ایسی صورت میں اگر ہر شخص کو یہ اختیار ہو کہ وہ حکم سنتے ہی کہہ دے کہ یہ خدا اور رسول کی تعلیم کے خلاف ہے تو اس صورت