خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 109
خلافة على منهاج النبوة 1+9 جلد دوم دعاؤں کی تحریک حضرت خلیفہ صیح الا قول کی وفات پر تمام جماعتوں کو تاریں بجھوادی امسیح الاوّل گئیں اور میں نے دوستوں کو تحریک کی کہ ہر شخص اُٹھتے بیٹھتے ، چلتے پھرتے دعاؤں میں لگ جائے۔راتوں کو تہجد پڑھے اور جسے توفیق ہو وہ کل روزہ بھی رکھے تاکہ اللہ تعالیٰ اس مشکل کے وقت جماعت کی صحیح راہنمائی کرے اور ہمارا قدم کسی غلط راستہ پر نہ جا پڑے۔اُسی دن میں نے اپنے خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا متفقہ فیصلہ رشتہ داروں کو جمع کیا اور اُن سے اس اختلاف کے متعلق مشورہ طلب کیا۔انہوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ خلیفہ ایسا شخص ہی مقرر ہونا چاہئے جس کے عقائد ہمارے عقائد کے ساتھ متفق ہوں مگر میں نے ان کو سمجھایا کہ اصل چیز جس کی اس وقت ہمیں ضرورت ہے اتفاق ہے۔خلیفہ کا ہونا بے شک ہمارے نزدیک مذہباً ضروری ہے لیکن چونکہ جماعت میں اختلاف پیدا ہونا بھی مناسب نہیں اس لئے اگر وہ بھی کسی کو خلیفہ بنانے میں ہمارے ساتھ متحد ہوں تو مناسب یہ ہے کہ عام رائے لے لی جائے اور اگر انہیں اس سے اختلاف ہو تو کسی ایسے آدمی کی خلافت پر اتفاق کیا جائے جو دونوں فریق کے نزدیک بے تعلق ہو۔اور اگر وہ یہ بھی قبول نہ کریں تو پھر انہیں میں سے کسی کے ہاتھ پر بیعت کر لی جائے چاہے وہ مولوی محمد علی صاحب ہی کیوں نہ ہوں۔یہ بات منوانی اگر چہ سخت مشکل تھی مگر میرے اصرار پر ہمارے تمام خاندان نے اس بات کو تسلیم کر لیا۔مولوی محمد علی صاحب سے ملاقات اس کے بعد میں مولوی محمد علی صاحب سے ملا اور میں نے اُن سے کہا کہ میں آپ سے کچھ باتیں کرنی چاہتا ہوں۔چنانچہ ہم دونوں جنگل کی طرف نکل گئے۔مولوی محمد علی صاحب نے کہا کہ حضرت خلیفہ امسیح کی وفات کے بعد جلد ہی کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہئے بلکہ اس وجہ سے کہ جماعت میں اختلاف ہے اور فتنے کا ڈر ہے پورے طور پر بحث کر کے ایک بات پر متفق