خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 108 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 108

خلافة على منهاج النبوة ۱۰۸ جلد دوم جماعت کو اختلاف سے محفوظ رکھنے کی کوشش چونکہ حضرت خلیفہ امسح الاول کی طبیعت اب زیادہ کمزور ہوتی جا رہی تھی اس لئے ہر شخص کے دل میں یہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ آپ کے بعد کیا ہوگا۔میرے سامنے صرف جماعت کے اتحاد کا سوال تھا۔یہ سوال نہیں تھا کہ ہم میں سے خلیفہ ہو یا اُن میں سے۔چنانچہ گو عام طور پر وہ لوگ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نبوت پر ایمان رکھتے تھے اُن کا یہی خیال تھا کہ ہم کسی ایسے شخص کے ہاتھ پر بیعت نہیں کر سکتے جس کے عقائد اُن کے عقائد سے مختلف ہوں کیونکہ اس طرح احمدیت کے مٹ جانے کا اندیشہ ہے مگر میں نے دوستوں کو خاص طور پر سمجھانا شروع کیا کہ اگر حضرت خلیفتہ المسیح کی وفات پر ہمیں کسی فتنے کا اندیشہ ہو تو ہمیں انہیں لوگوں میں سے کسی کے ہاتھ پر بیعت کر لینی چاہئے اور جماعت کو اختلاف سے محفوظ رکھنا چاہئے۔چنانچہ میں نے اکثر دوستوں کو اس بات پر آمادہ کرلیا کہ اگر جھگڑا محض اس بات پر ہو کہ خلیفہ کس جماعت میں سے ہو ہم میں سے یا اُن میں سے تو ہمیں اُن میں سے کسی کے ہاتھ پر بیعت کرنے کیلئے تیار رہنا چاہئے۔حضرت خلیفہ اول کی وفات ۱۳ مارچ ۱۹۱۴ء کو حضرت خلیفتہ المسح الا قول وفات پاگئے۔میں جمعہ پڑھا کر نواب محمد علی خان صاحب کی گاڑی میں آ رہا تھا کہ راستہ میں مجھے آپ کی وفات کی اطلاع ملی اور اس طرح میرا ایک اور خواب پورا ہو گیا جو میں نے اس طرح دیکھا تھا کہ میں گاڑی میں سوار ہوں اور گاڑی ہمارے گھر کی طرف جا رہی ہے کہ راستہ میں مجھے کسی نے حضرت خلیفتہ المسیح کی وفات کی خبر دی۔میں اس رؤیا کے مطابق سمجھتا تھا کہ غالباً میں اس وقت سفر پر ہونگا جب حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل کی وفات ہو گی مگر خدا تعالیٰ نے اسے اس رنگ میں پورا کر دیا کہ جب جمعہ پڑھا کر میں گھر واپس آیا تو نواب محمد علی خان صاحب کا ملازم ان کا یہ پیغام لے کر میرے پاس آیا کہ وہ میرے انتظار میں ہیں اور ان کی گاڑی کھڑی ہے۔چنانچہ میں اُن کے ہمراہ گاڑی میں سوار ہو کر چل پڑا اور راستہ میں مجھے حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل کی وفات کی اطلاع مل گئی۔