خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 86
خلافة على منهاج النبوة ۸۶ جلد دوم ہے۔انجیل میں بھی اسی قسم کی مثال پائی جاتی ہے جہاں ذکر آتا ہے کہ حضرت مسیح ناصری کی وفات کے بعد حواری ایک جگہ جمع ہوئے تو ان پر روح القدس نازل ہوا اور وہ کئی قسم کی بولیاں بولنے لگ گئے اور گوانجیل نویسوں نے اس واقعہ کو نہایت مضحکہ خیز صورت میں لوگوں کے سامنے پیش کیا ہے مگر اس سے اتنا ضرور معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح کی وفات کے بعد حواریوں میں یکدم کوئی ایسا تغیر پیدا ہوا جس کی طرف پہلے ان کی توجہ نہیں تھی اور وہ اس بات پر مجبور ہو گئے کہ اس تغیر کو روح القدس کی طرف منسوب کریں۔غرض اللہ تعالیٰ نبی کی اس نئی زندگی کو بھی اس کی شخصی زندگی کی طرح اپنے الہام اور قدرت نمائی سے شروع کرتا ہے اور اسی وجہ سے نبی کے زمانہ میں اس کی جزئیات قوم کی نظروں سے پوشیدہ رکھی جاتی ہیں۔قضیہ قرطاس پر ایک نظر یہاں میں ایک بات بطور لطیفہ بیان کر دیتا ہوں اور وہ یہ کہ شیعوں اور سنیوں میں بہت مدت سے ایک نزاع صلى چلا آتا ہے جسے قضیہ قرطاس کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔اس قضیہ قرطاس کی تفصیل یہ ہے کہ احادیث میں آتا ہے رسول کریم ﷺ کو مرض الموت میں جب تکلیف بہت بڑھ گئی تو آپ نے صحابہ سے فرمایا کہ کا غذ اور قلم دوات لاؤ تا کہ میں تمہارے لئے کوئی ایسی بات لکھوا صلى الله دوں جس کے نتیجہ میں تم کبھی گمراہ نہ ہو۔اس پر شیعہ کہتے ہیں کہ در اصل رسول کریم ﷺ لکھوانا چاہتے تھے کہ میرے بعد علی خلیفہ ہوں اور انہیں کو امام تسلیم کیا جائے لیکن حضرت عمرؓ نے آپ کو کچھ لکھوانے نہ دیا اور لوگوں سے کہہ دیا کہ جانے دو، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت تکلیف زیادہ ہے اور یہ مناسب نہیں کہ آپ کی تکلیف کو اور زیادہ بڑھایا جائے ہمارے لئے ہدایت کے لئے قرآن کا فی ہے اس سے بڑھ کر کسی چیز کی ضرورت نہیں۔شیعہ کہتے ہیں کہ یہ ساری چالا کی عمر کی تھی کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوئی وصیت کر جائیں تا کہ بعد میں حضرت علی کو محروم کر کے وہ خود حکومت کو سنبھال لیں۔اگر وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وصیت لکھوانے دیتے تو آپ ضرور حضرت علی کے حق میں وصیت کر جاتے۔اس اعتراض کے کئی جواب ہیں مگر میں اس وقت صرف دو جواب دینا چاہتا ہوں۔