خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 87
خلافة على منهاج النبوة ۸۷ جلد دوم اول یہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اگر حضرت علیؓ کے حق میں ہی خلافت کی وصیت کرنا چاہتے تھے تو حضرت عمرؓ کے انکار پر آپ نے دوبارہ یہ کیوں نہ فرمایا کہ قلم دوات ضرور لاؤ۔میں تمہیں ایک اہم وصیت لکھوانا چاہتا ہوں۔آخر آپ کو پتہ ہونا چاہئے تھا کہ عمر (نَعُوْذُ بِاللهِ ) علی کا دشمن ہے اور اس وجہ سے عمر کی کوشش یہی ہے کہ کسی طرح علی کو کوئی فائدہ نہ پہنچ جائے۔ایسی صورت میں یقیناً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمر سے فرماتے کہ تم کیا کہہ رہے ہو مجھے بے شک تکلیف ہے مگر میں اس تکلیف کی کوئی پرواہ نہیں کرتا۔تم جلدی قلم دوات لا ؤ تا کہ میں تمہیں کچھ لکھوا دوں۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ قلم دوات لانے کی ہدایت نہیں دی بلکہ حضرت عمرؓ نے جب کہا کہ ہماری ہدایت کے لئے خدا کی کتاب کا فی ہے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔۲۲ جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم در حقیقت وہی کچھ لکھوانا چاہتے تھے جس کی طرف حضرت عمرؓ نے اشارہ کیا تھا اور چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے انہوں نے ایک رنگ میں خدا کی کتاب پر ہمیشہ عمل کرنے کا عہد کر لیا اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی ضرورت نہ مجھی کہ آپ کوئی علیحدہ وصیت لکھوانے پر اصرار کریں۔پس اس واقعہ سے حضرت عمرؓ پر نہ صرف کوئی الزام عائد نہیں ہوتا بلکہ آپ کے خیال اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خیال کا تو ارد ظاہر ہوتا ہے۔دوسرا جواب جو درحقیت شیعوں کے اس قسم کے بے بنیا د خیالات کو ر ڈ کرنے کے لئے ایک زبر دست تاریخی ثبوت ہے وہ یہ ہے کہ ایسے موقعوں پر وصیت وہی شخص لکھوا سکتا ہے جسے یہ یقین ہو کہ اب موت سر پر کھڑی ہے اور اگر اس وقت وصیت نہ لکھوائی گئی تو پھر وصیت لکھوانے کا کوئی موقع نہیں رہے گا لیکن جسے یہ خیال ہو کہ مریض کو اللہ تعالیٰ صحت عطا کر دے گا اور جس مرض میں وہ مبتلاء ہے وہ مرض الموت نہیں بلکہ ایک معمولی مرض ہے تو وہ وصیت کو کوئی اہمیت نہیں دیتا اور سمجھتا ہے کہ اس غرض کے لئے اسے تکلیف دینا بالکل بے فائدہ ہے۔اب اس اصل کے ماتحت جب ہم ان واقعات کو دیکھتے ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر صحابہ کو پیش آئے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمرؓ کو حکومت سنبھالنے کا خیال تو