خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 81 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 81

خلافة على منهاج النبوة ΔΙ جلد اوّل نہیں ہوتی۔اگر مسیح موعود علیہ السلام نے ایسی گندی جماعت پیدا کی جو ضلالت پر اکٹھی ہوگئی تو پھر نَعُوذُ بِاللهِ اپنے منہ سے ان کو جھوٹا قرار دو گے ! تقویٰ کرو۔لیکن اگر مسیح موعود علیہ السلام خدا کی طرف سے تھے اور ضرور تھے تو پھر یاد کرو کہ یہ جماعت ضلالت پراک پر اکٹھی نہیں ہو سکتی۔قرآن شریف کو کوئی مسیح نہیں تو ڑسکتا۔میرا یقین ہے کہ کوئی ایسا مسیح نہیں آسکتا۔جو آئے گا قرآن کا خادم ہو کر آئے گا اس پر حاکم ہو کر نہیں۔یہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا عقیدہ تھا یہی شرح ہے آپ کے اس قول کی وہ ہے میں چیز کیا ہوں۔یہ تو دشمن پر حجت ہے مسیح موعود علیہ السلام قرآن کریم کی حقانیت ثابت کرنے کو آیا تھا۔اسے نَعُوذُ بِاللهِ باطل کرنے نہیں آیا تھا۔اس نے اپنے کام سے دکھا دیا کہ وہ قرآن مجید کا غلبہ ثابت کرنے کے لئے آیا تھا۔قرآن مجید میں فرمایا ہے فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللهِ لِنْتَ لَهُمْ وَلَوْ كُنْتَ فَقًا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَا انْفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْلَهُمْ وَ شَاوِرُهُمْ في الأمر۔٢٥۔پھر کہتے ہیں کہ خلیفہ کا طریق حکومت کیا ہو؟ طریق حکومت کیا ہونا چاہیے؟ خدا تعالیٰ نے اس کا فیصلہ کر دیا ہے تمہیں۔ضرورت نہیں کہ تم خلیفہ کیلئے قواعد اور شرائط تجویز کرو یا اس کے فرائض بتا ؤ۔اللہ تعالیٰ نے جہاں اس کے اغراض و مقاصد بتائے ہیں قرآن مجید میں اس کے کام کرنے کا طریق بھی بتا دیا ہے وَشَاوِرُهُمْ في الأَمْرِ : فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ " ایک مجلس شوری قائم کرو، ان سے مشورہ لے کر غور کرو پھر دعا کرو جس پر اللہ تعالیٰ تمہیں قائم کر دے اس پر قائم ہو جاؤ۔خواہ وہ اس مجلس کے مشورہ کے خلاف بھی ہو تو خدا تعالی مدد کرے گا۔خدا تعالیٰ تو کہتا ہے جب عزم کر لو تو اللہ پر توکل کرو۔گویا ڈرو نہیں اللہ تعالیٰ خود تمہاری تائید اور نصرت کرے گا اور یہ لوگ چاہتے ہیں کہ خواہ خلیفہ کا منشاء کچھ ہوا اور خدا تعالیٰ اسے کسی بات پر قائم کرے مگر وہ چند آدمیوں کی رائے کے خلاف نہ کرے۔حضرت صاحب