خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 80
خلافة على منهاج النبوة جلد اول ہیں اُن کو دور کرنے آئے تھے جیسے مثلاً اعتراض ہوتا تھا کہ اسلام تلوار کے ذریعہ پھیلایا گیا ہے مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آکر دکھا دیا کہ اسلام تلوار کے ذریعہ نہیں پھیلا بلکہ وہ اپنی روشن تعلیمات اور نشانات کے ذریعہ پھیلا ہے اسی طرح قرطاس کی حقیقت معلوم ہو گئی۔سن لو ! خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں قرطاس کی کیا حقیقت ہوتی ہے؟ اور میں یہ بھی تمہیں کھول کر سناتا ہوں کہ قرطاس منشاء الہی کے خلاف بھی نہیں ہو سکتا۔حضرت خلیفہ المسیح فرمایا کرتے تھے کہ ایک شیعہ ہمارے اُستاد صاحب کے پاس آیا اور ایک حدیث کی کتاب کھول کر ان کے سامنے رکھ دی۔آپ نے پڑھ کر پوچھا کیا ہے؟ شیعہ نے کہا کہ منشاء رسالت پنا ہی حضرت علی کی خلافت کے متعلق معلوم ہوتا ہے فرماتے تھے میرے استاد صاحب نے نہایت متانت سے جواب دیا ہاں منشاء رسالت پنا ہی تو تھا مگر منشاء الہی اس کے خلاف تھا اس لئے وہ منشاء پورا نہ ہو سکا۔میں اس قرطاس کے متعلق پھر کہتا ہوں کہ اگر کوئی کہے تو یہ جواب دوں گا کہ حقیقۃ الوحی میں ایک جانشین کا وعدہ کیا ہے اور یہ بھی فرما یا خَلِيفَةٌ مِنْ خُلَفَائِه پس غصب کی پکار بالکل بیہودہ اور عبث ہے۔حضرت صاحب کو الہام ہوا تھا۔سپردم ماية خویش را تو دانی حساب کم و بیش را ایک شریف آدمی بھی امانت میں خیانت نہیں کرتا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے تو اللہ تعالیٰ نے خود یہ دعا کرائی۔پھر کیا تم سمجھتے ہو کہ نَعُوذُ بِاللهِ خدا تعالیٰ نے خیانت کی ؟ تو بہ کرو تو بہ کرو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اتنا تو کل کہ وفات کے قریب یہ الہام ہوتا ہے پھر خدا نے نَعُوذُ باللهِ یہ عجیب کام کیا کہ امانت غیر حقدار کو دے دی۔خدا تعالیٰ نے خلیفہ مقرر کر کے دکھا دیا کہ سپردم بتو مایۂ خویش را کے الہام کے موافق کیا ضروری تھا۔پھر میں پوچھتا ہوں کہ کیا خدا ( نَعُوذُ بِاللهِ ) گمراہی کرواتا ہے؟ ہرگز نہیں خدا تعالیٰ تو اپنے مرسلوں اور خلفاء کو اس لئے بھیجتا ہے کہ وہ دنیا کو پاک کریں۔اس لئے انبیاء کی جماعت ضلالت پر قائم