خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 82 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 82

خلافة على منهاج النبوة ۸۲ جلد اول نے جو مصلح موعود کے متعلق فرمایا ہے۔وہ ہوگا ایک دن محبوب میرا اس کا بھی یہی مطلب ہے کیونکہ خدا تعالیٰ متوکلین کو محبوب رکھتا ہے جو ڈرتا ہے وہ خلیفہ نہیں ہو سکتا اسے تو گویا حکومت کی خواہش ہے کہ ایسا نہ ہو میں کسی آدمی کے خلاف کروں تو وہ ناراض ہو جائے ایسا شخص تو مشرک ہوتا ہے اور یہ ایک لعنت ہے۔خلیفے خدا مقرر کرتا ہے اور آپ اُن کے خوفوں کو دُور کرتا ہے جو شخص دوسروں کی مرضی کے موافق ہر وقت ایک نوکر کی طرح کام کرتا ہے اُس کو خوف کیا اور اس میں موحد ہونے کی کونسی بات ہے۔حالانکہ خلفاء کے لئے تو یہ ضروری ہے کہ خدا انہیں بناتا ہے اور ان کے خوف کوامن سے بدل دیتا ہے اور وہ خدا ہی کی عبادت کرتے ہیں اور شرک نہیں کرتے۔اگر نبی کو ایک شخص بھی نہ مانے تو اس کی نبوت میں فرق نہیں آتا وہ نبی ہی رہتا ہے یہی حال خلیفہ کا ہے اگر اُس کو سب چھوڑ دیں پھر بھی وہ خلیفہ ہی ہوتا ہے کیونکہ جوحکم اصل کا ہے وہی فرع کا ہے۔خوب یاد رکھو کہ اگر کوئی شخص محض حکومت کے لئے خلیفہ بنا۔اور اگر اصلاح کے لئے خدا کی طرف سے کام کرتا ہے تو وہ خدا کا محبوب ہے خواہ ساری دنیا اس کی دشمن ہو۔اس آیت مشورہ میں کیا لطیف حکم ہے۔اُس مشورہ کا کیا فائدہ جس پر عمل نہیں کرنا بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ اگر مشورہ لے کر اس پر عمل کرنا ضروری نہیں تو اس مشورہ کا کیا فائدہ ہے وہ تو ایک لغو کام بن جاتا ہے اور انبیاء اور اولیاء کی شان کے خلاف ہے کہ کوئی لغو کام کریں۔اس کا جواب یہ ہے کہ مشورہ لغو نہیں بلکہ بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص ایک بات سوچتا ہے دوسرے کو اس سے بہتر سُو جھ جاتی ہے۔پس مشورہ سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ مختلف لوگوں کے خیالات سن کر بہتر رائے قائم کرنے کا انسان کو موقع ملتا ہے جب ایک آدمی چند آدمیوں سے رائے پوچھتا ہے تو بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ان میں سے کوئی ایسی تدبیر بتا دیتا ہے جو اسے نہیں معلوم تھی۔جیسا کہ عام طور ہے لوگ اپنے دوستوں سے مشورہ کرتے ہیں کیا پھر اسے ضرور مان بھی لیا کرتے ہیں؟ پھر اگر