خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 79
خلافة على منهاج النبوة 29 جلد اول یہ شرم کرنے کا مقام ہے سوچو اور غور کرو۔میں تمہیں کھول کر کہتا ہوں کہ میرے دل میں یہ خواہش نہ تھی اور کبھی نہ تھی۔پھر اگر تم نے مجھے گندہ سمجھ کر میری بیعت کی ہے تو یا درکھو کہ تم ضرور پیر پرست ہو۔لیکن اگر خدا تعالیٰ نے تمہیں پکڑ کر جھکا دیا ہے تو پھر کسی کو کیا ؟ یہ کہنا کہ میں نے انجمن کا حق غصب کر لیا ہے بہت بڑا بول ہے۔کیا تم کو معلوم نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے خدا تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ میں تیری ساری خواہشوں کو پورا کروں گا۔اب ان لوگوں کے خیال کے موافق تو حضرت صاحب کا منشاء اور خواہش تو یہ تھی کہ انجمن ہی وارث ہے اور خلیفہ ان کے خیال میں بھی نہ تھا تو اب بتاؤ کہ کیا اس بات کے کہنے سے تم اپنے قول سے یہ ثابت نہیں کر رہے کہ نَعُوذُ باللہ خدا نے ان کے منشا کو پورا نہ ہونے دیا۔سوچ کر بتاؤ کہ شیعہ کون ہوئے ؟ شیعہ بھی تو یہی کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا منشا تھا کہ حضرت علی خلیفہ ہوں آپ کے خیال و و ہم میں بھی نہ تھا کہ ابو بکر، عمر، عثمان خلیفہ ہوں۔تو جیسے ان کے اعتقاد کے موافق مسئلہ خلافت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منشاء کو لوگوں نے بدل دیا اسی طرح یہاں بھی ہوا۔افسوس ! کیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کوئی عزت اور عظمت تمہارے دلوں میں ہے کہ تم قرار دیتے ہو کہ وہ اپنے منشا میں نَعُوذُ بِالله ناکام رہے۔خدا سے ڈرو اور تو بہ کرو۔پھر ایک تحریر لئے پھرتے ہیں اور اس کے فوٹو چھپوا کر شائع کئے جاتے ہیں یہ بھی وہی شیعہ والے قرطاس کے اعتراض کا نمونہ ہے۔وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر نے قرطاس نہ لانے دیا اگر قر طاس آ جاتا تو ضرور حضرت علی کی خلافت کا فیصلہ کر جاتے۔یہ لوگ کہتے ہیں کہ افسوس قرطاس لکھ کر بھی دیئے گئے پھر بھی کوئی نہیں مانتا بتاؤ شیعہ کون ہوا؟ میں کہتا ہوں کہ اگر وہ قرطاس ہوتا تو کیا بنتا۔وہی کچھ ہونا تھا جو ہو گیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ لکھوایا اور شیعہ کو خلیفہ ثانی پر اعتراض کا موقع ملا۔یہاں مسیح موعود علیہ السلام نے لکھ کر دیا اور اب اس کے ذریعہ اس کے خلیفہ ثانی پر اعتراض کیا جاتا ہے۔یا درکھو کہ مسیح موعود علیہ السلام تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جس قدر اعتراض ہوتے