خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 78 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 78

خلافة على منهاج النبوة جلد اول اخوت اور محبت کے لحاظ سے وہ کس قدر ترقی کر رہے ہیں؟ ان میں باہم نزا ئیں اور جھگڑے تو نہیں؟ یہ تمام امور ہیں جن پر واعظوں کو نظر رکھنی ہوگی اور اس کے متعلق مفصل رپورٹیں میرے پاس آتی رہیں۔کالج کی ضرورت جب مختلف مقامات پر مدرسے کھولے جائیں گے تو اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ ہمارا اپنا ایک کالج ہو۔حضرت خلیفہ المسیح کی بھی یہ خواہش تھی۔کالج ہی کے دنوں میں کیرکٹر بنتا ہے۔سکول لائف میں تو چال چلن کا ایک خاکہ کھینچا جاتا ہے اس پر دوبارہ سیاہی کالج لائف ہی میں ہوتی ہے پس ضرورت ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کی زندگیوں کو مفید اور مؤثر بنانے کے لئے اپنا ایک کالج بنائیں۔پس تم اس بات کو مدنظر رکھو میں بھی غور کر رہا ہوں۔یہ خلیفہ کے کام ہیں جن کو میں نے مختصر بیان کیا ہے ان کو کھول کر دیکھو اور ان کے مختلف حصوں پر غور کرو تو معلوم ہو جائے گا کہ انجمن کی کیا حقیقت ہے اور خلیفہ کی کیا۔میں یہ بڑے زور سے کہتا ہوں کہ نہ کوئی انجمن اس قسم کی ہے اور نہ ایسا دعویٰ کر سکتی ہے نہ ہو سکتی ہے نہ خدا نے کبھی کوئی انجمن بھیجی۔انجمن اور خلیفہ کی بحث بعض کہتے ہیں کہ خلیفہ نے انجمن کا حق غصب کر لیا پھر کہتے ہیں کہ یہ لوگ شیعہ ہیں۔میں جب ان باتوں کو سنتا ہوں تو مجھے افسوس آتا ہے کہ ان لوگوں کو کیا ہو گیا۔کہتے ہیں بیٹے کو خلافت کیوں مل گئی ؟ میں حیران ہوں کہ کیا کسی ولی یا نبی کا بیٹا ہونا ایسا نا قابلِ عفو مُجرم ہے کہ اس کو کوئی حصہ خدا کے فضل سے نہ ملے اور کوئی عہدہ وہ نہ پائے ؟ اگر یہ درست ہے تو پھر نَعُوذُبِ اللہ کسی ولی یا نبی کا بیٹا ہونا تو ایک لعنت ہوئی برکت نہ ہوئی۔پھر انبیاء علہیم السلام اولاد کی خواہش یونہی کرتے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیح موعود کی اولاد کی پیشگوئی نَعُوذُ بِاللهِ لغو کی اور خدا تعالیٰ نے مسیح موعود علیہ السلام سے جو وعدے کئے وہ برکت کے وعدے نہ تھے؟ نَعُوذُ باللهِ مِن ذلِكَ ) اور اگر یہ پیر پرستی ہے کہ کوئی بیٹا وارث ہو تو پھر اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ پیر کی اولا د کو ذلیل کیا جائے تا کہ پیر پرستی کا الزام نہ آئے پھر احترام اور عزت و تکریم کے دعاوی کس حد تک درست سمجھے جائیں۔