خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 77 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 77

خلافة على منهاج النبوة 22 جلد اول مدارس میں قرآن مجید پڑھایا جائے اور عملی دین سکھایا جائے ،نماز کی پابندی کرائی جائے مؤمن کسی معاملہ میں پیچھے نہیں رہتا۔پس تعلیم عامہ کے معاملہ میں ہمیں جماعت کو پیچھے نہیں رکھنا چاہیے اگر اس مقصد کے ماتحت پرائمری سکول کھولے جائیں گے تو گورنمنٹ سے بھی مددمل سکتی ہے۔جماعت کی دُنیوی ترقی تعلیم کے سوال کے ساتھ ہی یہ بھی قابل غور امر ہے کہ جماعت کی دُنیوی ترقی ہو۔ان کو فقر اور سوال سے بچایا جائے اور واعظین، تبلیغ اور تعلیم شرائع کے لئے جائیں۔ان کا یہ فرض ہونا چاہیے کہ وہ جماعت کی مادی ترقی کا بھی خیال رکھیں اور یہاں رپورٹ کرتے رہیں کہ احمدی سست تو نہیں۔اگر کسی جگہ کوئی شخص ست پایا جائے تو اُس کو کاروبار کی طرف متوجہ کیا جائے۔مختلف حرفتوں اور صنعتوں کی طرف انہیں متوجہ کیا جائے اس قسم کی باقاعدہ اطلاعیں جب ملتی رہیں گی تو جماعت کی اصلاح حال کی کوشش اور تدبیر ہو سکے گی۔عملی ضرورت ہے جب میں نے ان باتوں پر غور کیا تو میں نے دیکھا کہ یہ بہت بڑا میدان ہے۔میں نے غور کیا تو ڈر گیا کہ باتیں تو بہت کیں اگر عمل میں سُستی ہو تو پھر کیا ہوگا اور دوسری طرف خیال آیا کہ اگر چستی ہو تو پھر اور قسم کی مشکلات ہیں۔حضرت عمرؓ اور حضرت عثمان کی خلافت پر غور کیا تو معلوم ہوا کہ حضرت عمرؓ چل پھر کر خوب واقفیت پیدا کر لیتے تھے۔جو لوگ کہتے ہیں کہ حضرت عثمان کا قصور تھا وہ جھوٹے ہیں۔حضرت عثمان بہت بوڑھے تھے اور چل پھر کر وہ کام نہیں کر سکتے تھے جو حضرت عمرؓ کر لیتے تھے۔پھر میں نے خیال کیا کہ میرا اپنا تو کچھ بھی نہیں جس خدا نے یہ امور اصلاح جماعت کے لئے میرے دل میں ڈالے ہیں وہی مجھے توفیق بھی دے دے گا۔مجھے دے گا تو میرے ساتھ والوں کو بھی دے گا۔غرض دنیوی ترقی کے لئے مدارس قائم کئے جائیں اور واعظین اپنے دوروں میں اس امر کو خصوصیت سے مدنظر رکھیں کہ جماعتیں بڑھ رہی ہیں یا گھٹ رہی ہیں؟ اور تعلیمی اور ڈ نیوی حالت میں کیا ترقی ہو رہی ہے؟ عملی پابندیوں میں جماعت کی کیسی حالت ہے؟ با ہم