خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 76
خلافة على منهاج النبوة جلد اول چاہئے اور پھر خلیفہ کے حکم کے ماتحت وہ خرچ ہونی چاہیے۔میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر با قاعدہ رجسٹر کھولے گئے اور اس کے جمع کرنے میں کوشش کی گئی تو اس مد میں ہزاروں روپیہ جمع ہوسکتا ہے بلکہ میرا یقین ہے کہ تھوڑے ہی دنوں میں لاکھ سے بھی زیادہ آمدنی ہو سکتی ہے اس طرف زور سے توجہ ہو۔میں یہ کروں گا کہ مسئلہ زکوۃ پر ایک ٹریکٹ لکھوا کر شائع کر دوں گا جس میں زکوۃ کے تمام احکام ہوں گے مگر آپ کا یہ کام ہے کہ زکوۃ کے لئے با قاعدہ رجسٹر کھول دیں اور نہایت احتیاط اور کوشش سے زکوۃ جمع کریں اور وہ زکوۃ با قاعدہ میرے پاس آنی چاہیے یہ ایک تجویز ہے۔تعلیم میں نے بتایا تھا کہ یزکیھم کے معنوں میں اُبھارنا اور بڑھانا بھی داخل ہے اور اس کے مفہوم میں قومی ترقی داخل ہے اور اس ترقی میں علمی ترقی بھی شامل ہے اور اسی میں انگریزی مدرسہ اشاعت اسلام وَغَيْرَهُمَا امور آ جاتے ہیں اس سلسلہ میں میرا خیال ہے کہ ایک مدرسہ کافی نہیں ہے جو یہاں کھولا ہوا ہے اس مرکز ی سکول کے علاوہ ضرورت ہے سچ مختلف مقامات پر مدر سے کھولے جائیں زمیندار اس مدرسہ میں لڑکے کہاں بھیج سکتے ہیں۔زمینداروں کی تعلیم بھی تو مجھ پر فرض ہے پس میری یہ رائے ہے کہ جہاں جہاں بڑی جماعت ہے وہاں سر دست پرائمری سکول کھولے جائیں ایسے مدارس یہاں کے مرکزی سکول کے ماتحت ہوں گے۔ایسا ہونا چاہیے کہ جماعت کا کوئی فرد عورت ہو یا مرد باقی نہ رہے جو لکھنا پڑھنا نہ جانتا ہو۔صحابہ نے تعلیم کے لئے بڑی بڑی کوششیں کی ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض دفعہ جنگ کے قیدیوں کا فدیہ آزادی یہ مقرر فرمایا ہے کہ وہ مسلمان بچوں کو تعلیم دیں۔میں جب دیکھتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کیا فضل لے کر آئے تھے تو جوشِ محبت سے روح بھر جاتی ہے۔آپ نے کوئی بات نہیں چھوڑی ہر معاملہ میں ہماری راہنمائی کی ہے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفہ اسیح نے بھی اسی نقش قدم پر چل کر ہر ایسے امر کی طرف توجہ دلائی ہے جو کسی بھی پہلو سے مفید ہو سکتا ہے۔غرض عام تعلیم کی ترقی کے لئے سردست پرائمری سکول کھولے جائیں۔ان تمام