خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 65 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 65

خلافة على منهاج النبوة جلد اول میرے دوستو ! یہ معمولی مصیبت اور دکھ نہیں ہے۔کیا تم چاہتے ہو ، ہاں کیا تم چاہتے ہو کہ فتویٰ پوچھنے کے لئے تم ندوہ اور دوسرے غیر احمدی مدرسوں یا علماء سے سوال کرتے پھر و جو تم پر کفر کے فتوے دے رہے ہیں؟ دینی علوم کے بغیر قوم مُردہ ہوتی ہے پس اس خیال کو مد نظر رکھ کر باوجود پُر جوش مخالفت کے میں نے مدرسہ احمدیہ کی تحریک کو اُٹھایا اور خدا کا فضل ہے کہ وہ مدرسہ دن بدن ترقی کر رہا ہے لیکن ہمیں تو اس وقت واعظ اور معلموں کی ضرورت ہے۔مدرسہ سے تعلیم یافتہ نکلیں گے اور اِنشَاءَ اللہ وہ مفید ثابت ہوں گے مگر ضرورتیں ایسی ہیں کہ ابھی ملیں۔میرا اپنا دل تو چاہتا ہے کہ گاؤں گاؤں ہمارے علماء اور مفتی ہوں۔جن کے ذریعہ علوم دینیہ کی تعلیم و تدریس کا سلسلہ جاری ہو اور کوئی بھی احمدی باقی نہ رہے جو پڑھا لکھا نہ ہو اور علوم دینی سے واقف نہ ہو۔میرے دل میں اس غرض کے لئے بھی عجیب عجیب تجویزیں ہیں جو خدا چاہے گا تو پوری ہو جائیں گی۔غرض یہ ضروری سوال ہے کہ مبلغ کہاں سے آویں ؟ اور پھر چونکہ ہم چاہتے ہیں کہ ہر قوم اور ہر زبان میں ہماری تبلیغ ہو اس لئے ضرورت ہے کہ مختلف زبانیں سکھائی جاویں۔حضرت خلیفۃ المسیح کی زندگی میں میں نے ارادہ کیا تھا کہ بعض ایسے طالبعلم ملیں جو سنسکرت پڑھیں اور پھر وہ ہندوؤں کے گاؤں میں جا کر کوئی مدرسہ کھول دیں اور تعلیم کے ساتھ تبلیغ کا سلسلہ بھی جاری رکھیں اور ایک عرصہ تک وہاں رہیں۔جب اسلام کا بیج بویا جائے تو مدرسہ کسی شاگرد کے سپرد کر کے آپ دوسری جگہ جا کر کام کریں۔غرض جس رنگ میں تبلیغ آسانی سے ہو سکے کر یں۔اس قسم کے لوگوں کی بہت بڑی ضرورت ہے جو خدمتِ دین کے لئے نکل کھڑے ہوں۔یہ ضرورت کس طرح پوری ہو؟ ایک سہل طریق خدا تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا ہے اور وہ یہ ہے کہ یہاں ایک مدرسہ ہو۔تم باہم مل کر اس کے لئے مشورہ کرو پھر میں غور کروں گا۔میں پھر کہتا ہوں کہ میں تم سے جو مشورہ کر رہا ہوں یہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے نیچے کر رہا ہوں۔قرآن مجید میں اس نے فرمایا ہے و شاد رُهُمْ فِي الْأَمْرِ فَإِذَا عَزَمْتَ فتوكل على الله " پس تم مشورہ کر کے مجھے بتاؤ۔پھر اللہ تعالیٰ جو کچھ میرے دل میں