خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 66
خلافة على منهاج النبوة ۶۶ جلد اول ڈالے گا میں اس پر تَوَكُلاً عَلَى الله عزم کروں گا۔غرض ایک مدرسہ ہو اس میں ایک ایک مہینے یا تین تین مہینے کے کورس ہوں۔اس عرصہ میں مختلف جگہ سے لوگ آجا دیں اور وہ کورس پورا کر کے اپنے وطنوں کو چلے جاویں اور وہاں جا کر اپنے اس کورس کے موافق سلسلہ تبلیغ کا جاری کریں۔پھر ان کی جگہ ایک اور جماعت آوے اور وہ بھی اسی طرح اپنا کورس پورا کر کے چلی جاوے۔سال تک برابر اسی طرح ہوتا رہے پھر اسی طریق پر وہ لوگ جو پہلے سال آئے تھے آتے رہیں۔اس طرح پر ان کی تکمیل ہو اور ساتھ ہی وہ تبلیغ کرتے رہیں۔میں اس مقصد کے لئے خاص استاد مقرر کروں گا اور جو لوگ اس طرح پر آتے رہیں گے وہ برا بر پڑھتے رہیں گے۔یہ تعلیم کا ایک ایسا ہی طریق ہے جیسا کہ میدانِ جنگ میں نماز کا ہے۔اس وقت بھی دشمن سے جنگ ہے اب تیر و تفنگ کی لڑائی نہیں بلکہ دلائل اور براہین سے ہو رہی ہے اس لئے انہیں ہتھیاروں سے ہم کو مسلح ہونا چاہیے اور اس کی یہ ایک صورت ہے۔غرض ایک سال کا کورس ختم ہونے کے بعد پھر پہلی جماعت آئے اور کورس ختم کرے۔ایک ایک سال کے لئے ذخیرہ موجود ہو گا حتی کہ چار پانچ چھ سات سال میں جب تک خدا چاہے کام کرتے رہیں اتنے عرصہ میں مبلغ تیار ہو جاویں گے۔یہ ایک طریق ہے، یہ ایک رنگ ہے پس تم غور کرو کہ ایک مدرسہ اس قسم کا چاہیے۔واعظین کا تقرر واعظین کے تقرر کی بھی ضرورت ہے اور میری رائے یہ ہے کہ کم از کم دس تو ہوں۔ان کو مختلف جگہ بھیج دیا جاوے۔مثلاً ایک سیالکوٹ چلا جا وے وہ وہاں جا کر درس دے اور تبلیغ کرے تین ماہ تک وہاں رہے اور پھر دوسری جگہ چلا جاوے۔کسی جگہ ایک آدھ دن کے لیکچر یا وعظ کی بجائے یہ سلسلہ زیادہ مفید ہوسکتا ہے واعظین کم از کم دس ہوں اور اگر یہ بھی نہ مل سکیں تو کم از کم پانچ ہی ہوں۔قوم لوط کا واقعہ اس موقع پر مجھے ایک خطر ناک واقعہ یاد آ گیا۔حضرت لوط علیہ السلام کی قوم پر جب عذاب آیا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی تب ابراہام نزدیک جا کے بولا۔کیا تو نیک کو بد کے ساتھ ہلاک کرے گا ؟ شاید پچاس صادق اس شہر میں ہوں۔کیا تو اسے ہلاک کرے گا اور ان پچاس صادقوں کی خاطر جو اس