خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 61
خلافة على منهاج النبوة ۶۱ جلد اول مانیں یہ اُن کا کام ہے۔وہ اگر اپنا فرض پورا نہیں کرتے تو اس کے یہ معنے نہیں کہ ہم بھی اپنا فرض پورا نہ کریں۔اس موقع پر مجھے ایک بزرگ کا واقعہ یاد آیا۔کہتے ہیں کہ ایک بزرگ بیس برس سے دعا کر رہے تھے وہ ہر روز دعا کرتے اور صبح کے قریب اُن کو جواب ملتا مانگتے رہو کہ میں تو کبھی بھی تمہاری دعا قبول نہیں کروں گا۔ہمیں برس گزرنے پر ایک دن ان کا کوئی مرید بھی ان کے ہاں مہمان آیا ہوا تھا۔اس نے دیکھا کہ پیر صاحب رات بھر دعا کرتے ہیں اور صبح کے قریب ان کو یہ آواز آتی ہے۔یہ آواز اس مرید نے بھی سنی۔تیسرے دن اس نے عرض کیا کہ جب اس قسم کا سخت جواب آپ کو ملتا ہے تو پھر آپ کیوں دعا کرتے رہتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ تو بہت بے استقلال معلوم ہوتا ہے بندے کا کام ہے دعا کرنا خدا تعالیٰ کا کام ہے قبول کرنا۔مجھے اس سے کیا غرض کہ وہ قبول کرتا ہے یا نہیں۔میرا کام دعا کرنا ہے سو میں کرتا رہتا ہوں میں تو ہمیں سال سے ایسی آوازیں سن رہا ہوں میں تو کبھی نہیں گھبرا یا تو تین دن میں گھبرا گیا۔دوسرے دن خدا تعالیٰ نے اسے فرمایا کہ میں نے تیری وہ ساری دعائیں قبول کر لیں جو تو نے بیس سال کے اندر کی ہیں۔غرض ہمارا کام پہنچا دینا ہے اور محض اس وجہ سے کہ کوئی قبول نہیں کرتا ہمیں تھکنا اور رکنا نہیں چاہئے۔کیونکہ ہمارا کام منوانا نہیں ہم کو تو اپنا فرض ادا کرنا چاہیے تا کہ اللہ تعالیٰ کے حضور ہم کہ سکیں کہ ہم نے پہنچا دیا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا تست عَلَيْهِمْ بِمُصيطر ٣ لااكراة في الدين ١٢ اور آپ کا کام اتنا ہی فرمایا بلغ ما أنزل إليك ها جو تم پر نازل ہوا اُسے پہنچاؤ۔پس ہمیں اپنا کام کرنا چاہیے۔جب منوانا ہمارا کام نہیں تو دوسرے کے کام پر ناراض ہو کر اپنا کام کیوں چھوڑیں؟ ہم کو اللہ تعالیٰ کے حضور سُرخرو ہونے کے لئے پیغام حق پہنچا چاہیے۔پس ایسی تجویز کرو کہ ہر قصبہ اور شہر اور گاؤں میں ہمارے مبلغ پہنچ جاویں اور زمین و آسمان گواہی دے دیں کہ تم نے اپنا فرض ادا کر دیا اور پہنچا دیا۔دوم ہندوستان سے باہر ہر ایک ملک میں ہم اپنے واعظ بھیجیں۔مگر میں اس بات کے