خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 54 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 54

خلافة على منهاج النبوة ۵۴ جلد اول اس قومی اجتماع کی کیا غرض ہے اب آپ کو جو بلایا گیا ہے تو خدا تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا کہ میں ان کاموں کے متعلق جو خدا نے میرے سپر د کر دیئے ہیں آپ سے مشورہ کروں کہ انہیں کس طرح کروں۔میں جانتا ہوں اور نہ صرف جانتا ہوں بلکہ یقین رکھتا ہوں کہ وہ آپ میری ہدایت اور رہنمائی کرے گا کہ مجھے کس طرح ان کو سر انجام دینا چاہئے۔لیکن اُسی نے مشورہ کا بھی تو حکم دیا ہے۔یہ کام اُس نے خود بتائے ہیں، اُس نے آپ میرے دل میں اس آیت کو ڈالا جو میں نے پڑھی ہے۔پرسوں مغرب یا عصر کی نماز کے وقت یکدم میرے دل میں ڈالا۔میں حیران تھا کہ بُلا تو لیا ہے کیا کہوں۔اس پر یہ آیت اُس نے میرے دل میں ڈالی۔پس یہ چار کام انبیاء اور ان کے خلفاء کے ہیں ان کے سرانجام دینے میں مجھے تم سے مشورہ کرنا ہے میں اب ان کا موں کو اور وسیع کرتا ہوں۔چار نہیں بلکہ آٹھ میں اس آیت کی ایک اور تشریح کرتا ہوں جب ان پر میں نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ ان چار میں اور معنی پوشیدہ تھے اور اس طرح پر یہ چار آٹھ بن جاتے ہیں۔(1) يَتْلُوا عَلَيْهِ آیتم اس کے معنی ایک یہ کرتا ہوں کہ کافروں کو مؤمن بنا دے یعنی تبلیغ کرے۔دوسرے مؤمنوں کو آیات سنائے۔اس صورت میں ترقی ایمان یا درستی ایمان بھی کام ہوگا یہ دو ہو گئے۔(۲) يُعَلِّمُهُمُ الكتب قرآن شریف کتاب موجود ہے اس لئے اس کی تعلیم میں قرآن مجید کا پڑھنا پڑھانا ، قرآن مجید کا سمجھنا آ جائے گا۔کتاب تو لکھی ہوئی موجود ہے اس لئے کام یہ ہوگا کہ ایسے مدارس ہوں جہاں قرآن مجید کی تعلیم ہو۔پھر اس کے سمجھانے کے لئے ایسے مدارس ہوں جہاں قرآن مجید کا ترجمہ سکھایا جائے اور وہ علوم پڑھائے جائیں جو اس کے خادم ہوں۔ایسی صورت میں دینی مدارس کا اجراء اور ان کی تکمیل کا م ہوگا۔( ب ) دوسرا کام اس لفظ کے ماتحت قرآن شریف پر عمل کرانا ہوگا کیونکہ تعلیم دو قسم کی ہوتی ہے ایک کسی کتاب کا پڑھا دینا اور دوسرے اس پر عمل کروانا۔