خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 53 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 53

خلافة على منهاج النبوة ۵۳ جلد اول ہوں کہ کوئی سیکرٹری یہ کام نہیں کر سکتا اور کوئی انجمن نبی کے کام نہیں کر سکتی۔اگر انجمنیں یہ کام کر سکتیں تو خدا تعالیٰ دنیا میں مامور اور مرسل نہ بھیجتا بلکہ اس کی جگہ انجمنیں بنا تا مگر کسی ایک انجمن کا پتہ دو جس نے کہا ہو کہ خدا نے ہمیں مامور کیا ہے۔کوئی دنیا کی انجمن نہیں ہے جو یہ کام کر سکے۔ممبر تو اکٹھے ہو کر چند امور پر فیصلہ کرتے ہیں کیا کبھی کسی انجمن میں اس آیت پر بھی غور کیا گیا ہے۔یا درکھو خدا تعالیٰ جس کے سپر د کوئی کام کرتا ہے اُسی کو بتاتا ہے کہ تیرے یہ کام ہیں۔یہ کام ہیں جو انبیاء اور خلفاء کے ہوتے ہیں۔رو پیدا کٹھا کرنا ادنی درجہ کا کام ہے۔خلفاء کا کام انسانی تربیت ہوتی ہے اور ان کو خدا تعالیٰ کی معرفت اور یقین کے ساتھ پاک کرنا ہوتا ہے۔روپیہ تو آریوں اور عیسائیوں کی انجمنیں بلکہ دہریوں کی انجمنیں بھی جمع کر لیتی ہیں۔اگر کسی نبی یا اس کے خلیفہ کا بھی یہی کام ہو تو نَعُوذُ بِالله یہ سخت ہتک اور بے ادبی ہے اُس نبی اور خلیفہ کی۔یہ سچ ہے کہ ان مقاصد اور اغراض کی تکمیل کے لئے جو اس کے سپر د ہوتے ہیں اس کو بھی روپیہ کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ بھی من انصاري إلى الله " کہتا ہے مگر اس سے اُس کی غرض روپیہ جمع کرنا نہیں بلکہ اس رنگ میں بھی اُس کی غرض وہی تکمیل اور تزکیہ ہوتی ہے۔اور پھر بھی اس غرض کے لئے اس کی قائم مقام ایک انجمن یا شوری ہوتی ہے جو انتظام کرے۔میں پھر کہتا ہوں کہ خلیفہ کا کام روپیہ جمع کرنا نہیں ہوتا اور نہ اس کے اغراض و مقاصد کا دائرہ کسی مدرسے کے جاری کرنے تک محدود ہوتا ہے یہ کام دنیا کی دوسری قو میں بھی کرتی ہیں۔خلیفہ کے اس قسم کے کاموں اور دوسری قوموں کے کاموں میں فرق ہوتا ہے وہ ان امور کو بطور مبادی اور اسباب کے اختیار کرتا ہے یا اختیار کرنے کی ہدایت کرتا ہے دوسری قو میں اس کو بطور ایک اصل مقصد اور غایت کے اختیار کرتی ہیں۔حضرت صاحب نے جو مدرسہ بنایا اس کی غرض وہ نہ تھی جو دوسری قوموں کے مدرسوں کی ہے۔پس یا درکھو کہ خلیفہ کے جو کام ہوتے ہیں وہ کسی انجمن کے ذریعہ نہیں ہو سکتے۔