خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 32 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 32

خلافة على منهاج النبوة ۳۲ جلد اول انسانوں کی طرف نہیں کی گئی بلکہ ہر قسم کے خلفاء کی نسبت اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا ہے کہ انہیں ہم بناتے ہیں چنانچہ انبیاء و مأمورین کے خلفاء کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وعد الله الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا اللِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وليبة لَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ آمَنَّا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا، وَمَن كَفَرَ بعد ذلك فأول هُمُ الفسقُونَ الله تعالی تم میں سے مؤمنوں اور نیک اعمال والوں سے وعدہ کرتا ہے کہ وہ انہیں اسی طرح زمین میں خلیفہ مقرر فرمائے گا جس طرح ان سے پہلوں کو مقرر کیا اور ان خلفاء کے اس دین کو جو اس نے ان کے لئے پسند کیا ہے قائم کرے گا اور ان کے خوفوں کو امن سے بدل دے گا وہ میری ہی عبادت کریں گے اور میرا کسی کو شریک نہیں قرار دیں گے اور جو شخص اس حکم کے ہوتے ہوئے بھی ان کا انکار کرے گا تو وہ خدا تعالیٰ سے دور کیا جائے گا۔اب اس آیت کے ماتحت جس قسم کی خلافت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہوئی وہی خلافت راشدہ ہے اور اسی قسم کی خلافت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد ہونی ضروری ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں مسیح موعود علیہ السلام کی نسبت فرماتا ہے هُوَ الَّذِي بَعَتْ في الأَمينَ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَيْتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ ويُعَلِّمُهُمُ الكتب والحِكْمَةَ، وَ اِنْ كَانُوا مِن قَبْلُ لَفِي ضَللٍ مُّبِينٍ وأخرينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ خدا ہی ہے جس نے اُمیوں میں ایک رسول بھیجا جو انہی میں سے ہے اور جو ان پر خدا کا کلام پڑھتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور کتاب اور حکمت سکھاتا ہے اور بیشک اس سے پہلے کھلی کھلی گمراہی میں تھے اور وہ رسول ایک اور قوم کو بھی سکھائے گا جو ابھی تک ان سے نہیں ملی اور خدا تعالیٰ غالب اور حکمت والا ہے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے تشبیہہ دی ہے اور فرمایا ہے کہ ایک دفعہ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کی تربیت کی ہے اور ایک دفعہ وہ پھر ایک اور قوم کی تربیت کریں۔