خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 31
خلافة على منهاج النبوة ٣١ جلد اول کون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ مضمون محرره ۲۱ مارچ ۱۹۱۴ء ) وَاذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلية إنّي جَاعِلُ في الأَرْضِ خَلِيفَةً ، قَالُوا اتَجْعَلُ فِيْهَا مَن يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاء وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ ونُقَدِّسُ لَكَ ، قَالَ انّي اَعْلَمُ مَا لا تَعْلَمُونَ اور جب تیرے رب نے ملائکہ سے کہا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ مقرر کرنا چاہتا ہوں تو اُنہوں نے جواب دیا کہ کیا آر ایسے شخص کو خلیفہ مقرر کرتے ہیں جو فساد کرے گا اور خون بہائے گا اور ہم وہ لوگ ہیں جو حضور کی تسبیح وتحمید کرتے ہیں اور آپ کی قدوسیت کا اقرار کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اُن کی اس بات کو سن کر فرمایا کہ میں وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔یہ ایک ایسی آیت ہے جس سے خلافت کے گل جھگڑوں کا فیصلہ ہو جاتا ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آدم کے زمانہ سے خلافت پر اعتراض ہوتے چلے آئے ہیں اور ہمیشہ بعض لوگوں نے خلافت کے خلاف جوشوں کا اظہار کیا ہے پس میں بھی جماعت احمدیہ کو اسی آیت کی طرف متوجہ کرتا ہوں تا وہ صِرَاطِ مُسْتَقِیم کو پا سکے اور ہدایت کی راہ معلوم کر سکے۔خوب یا درکھو کہ خلیفہ خدا بنا تا ہے اور جھوٹا ہے وہ انسان جو یہ کہتا ہے کہ خلیفہ انسانوں کا مقرر کر دہ ہوتا ہے۔حضرت خلیفہ اسی مولوی نورالدین صاحب اپنی خلافت کے زمانہ میں چھ سال متواتر اس مسئلہ پر زور دیتے رہے کہ خلیفہ خدا مقرر کرتا ہے نہ انسان۔اور درحقیقت قرآن شریف کا غور سے مطالعہ کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ ایک جگہ بھی خلافت کی نسبت