خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 33 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 33

خلافة على منهاج النبوة ۳۳ جلد اول گے جو ابھی تک پیدا نہیں ہوئی۔پس مسیح موعود کی جماعت کو صحابہ رضوان اللہ علیہم سے مشابہہ قرار دے کر بتا دیا ہے کہ دونوں میں ایک ہی قسم کی سنت جاری ہوگی پس جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافت کا سلسلہ جاری ہوا ضرور تھا کہ مسیح موعود علیہ السلام کے بعد بھی ایسا ہی ہوتا۔چنانچہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے الوصیت میں صاف لکھ دیا ہے کہ جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ابو بکر کے ذریعہ دوسری قدرت کا اظہار ہوا ضرور ہے کہ تم میں بھی ایسا ہی ہو۔اور اس عبارت کے پڑھنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپ اپنے بعد سلسلۂ خلافت کے منتظر تھے مگر جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس امر میں صرف اشارات پر اکتفا کیا اسی طرح آپ نے بھی اشارات کو ہی کافی سمجھا کیونکہ ضرور تھا کہ جس طرح پہلی قدرت یعنی مسیح موعود علیہ السلام کے وقت ابتلاء آئے دوسری قدرت یعنی سلسلہ خلافت کے وقت بھی ابتلاء آتے۔ہاں ایک بات یاد رکھنی چاہیے کہ خلیفہ اپنے پیش رو کے کام کی نگرانی کے لئے ہوتا ہے اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفاء مُلک و دین دونوں کی حفاظت پر مامور تھے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے دینی اور دنیاوی دونوں بادشاہتیں دی تھیں لیکن مسیح موعود علیہ السلام جس کے ذریعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جمالی ظہور ہوا صرف دینی بادشاہ تھا اس لئے اس کے خلفاء بھی اسی طرز کے ہوں گے۔پس جماعت کے اتحاد اور شریعت کے احکام کو پورا کرنے کیلئے ایک خلیفہ کا ہونا ضروری ہے اور جو اس بات کو رڈ کرتا ہے وہ گویا شریعت کے احکام کو ر ڈ کرتا ہے صحابہ کا عمل اس پر ہے اور سلسلہ احمدیہ سے بھی خدا تعالیٰ نے اسی کی تصدیق کرائی ہے۔جماعت کے معنی ہی یہی ہیں کہ وہ ایک امام کے ماتحت ہو جو لوگ کسی امام کے ماتحت نہیں وہ جماعت نہیں اور ان پر خدا تعالیٰ کے وہ فضل نازل نہیں ہو سکتے اور کبھی نہیں ہو سکتے جو ایک جماعت پر ہوتے ہیں۔پس اے جماعت احمد یہ ! اپنے آپ کو ابتلاء میں مت ڈال اور خدا تعالیٰ کے احکام کو رڈ مت کر کہ خدا کے حکموں کو ٹالنا نہایت خطرناک اور نقصان دہ ہے۔اسلام کی حقیقی ترقی اُس زمانہ میں ہوئی جو خلافت راشدہ کا زمانہ کہلاتا ہے پس تو اپنے ہاتھ سے اپنی ترقیوں کو