خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 475
خلافة على منهاج النبوة ۴۷۵ جلد اول مولوی محمد علی صاحب کا لا ہور جانا تھا کہ مخالفت کا دریا اور بھی رائی کا پہاڑ بنانا تیزی سے اُٹڈ نے لگا۔وہ بچوں کے کنکر پھینکنے کا ارادہ ظاہر کرنے کا واقعہ تھوڑے دنوں میں تبدیل ہو کر یوں بن گیا کہ بعض لڑکوں نے مولوی صاحب پر کنکر پھینکے مگر شکر ہے لگے نہیں۔پھر ترقی کر کے اس نے یہ صورت اختیار کی کہ بعض لڑکوں نے آپ پر کنکر پھیکےمگر شکر ہے کہ آپ کی آنکھ بچ گئی اور پھر اس سے بھی ترقی کر کے اس نے یہ ہیئت اختیار کی کہ قادیان کے لوگوں نے کنکر پھینکے اور اس کے بعد یہ کہ قادیان کے لوگوں سے آپ کی جان محفوظ نہ تھی۔چنانچہ ابتدا اس طرح شروع بھی ہوگئی تھی کہ قادیان کے لوگوں نے آپ پر پتھر پھینکے اور یہ آخری روایت مولوی محمد علی صاحب نے امرتسر میں متعدد آدمیوں کے سامنے بیان کی۔مولوی محمد علی صاحب کے مولوی محمد علی صاحب قادیان سے چلے گئے اور خیال کیا گیا کہ قادیان کا سورج غروب ہو گیا مسیح موعود چلے جانے کے بعد قادیان علیہ السلام کا بنایا ہوا مرکز ٹوٹ گیا۔مولوی صاحب قادیان سے چلے گئے اور سمجھ لیا گیا کہ اب اسلام کا یہاں نام باقی نہ رہے گا۔مرزا یعقوب بیگ صاحب نے تعلیم الاسلام ہائی سکول کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ ہم جاتے ہیں ابھی دس سال نہ گزریں گے کہ یہ جگہ عیسائیوں کے قبضہ میں ہوگی۔مولوی محمد علی صاحب قادیان سے چلے گئے اور گویا قادیان کی روح فاعلی نکل گئی عام طور پر کہا جانے لگا کہ اب وہاں کوئی آدمی کام کے قابل نہیں۔زیادہ دن نہ گزریں گے کہ قادیان کا کام بند ہو جائے گا۔مولوی محمد علی صاحب قادیان سے چلے گئے اور گویا قادیان کی برکت سب جاتی رہی على الإعلان اس امر کا اظہار ہونے لگا کہ چندہ بند ہو جاوے گا اور یہ لوگ بھو کے مرنے لگیں گے تو خود ہوش آ جاوے گا۔مولوی محمد علی صاحب قادیان سے چلے گئے اور قادیان کی دیانت بھی گویا ساتھ ہی چلی گئی کیونکہ اس بات کا خطرہ ظاہر کیا جانے لگا کہ سب روپیہ خلیفہ خود لے لے گا اور جماعت کا روپیہ برباد ہو جاوے گا۔