خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 476
خلافة على منهاج النبوة جلد اول مولوی محمد علی صاحب چلے گئے اور گویا اسلام پر قادیان میں موت آگئی کیونکہ سمجھ لیا گیا کہ اب اسلام کے احکام کی علی الاعلان ہتک ہو گی اور سلسلہ احمدیہ کو برباد کیا جاوے گا اور کوئی ہوش مند رو کنے والا نہ ہوگا۔مولوی محمد علی صاحب چلے گئے اور قادیان کے مہاجرین کفار مکہ کے ہمرنگ بن گئے کیونکہ وعدہ دیا جانے لگا کہ دس سال کے عرصہ میں مولوی صاحب اپنے احباب سمیت قریہ قادیان کو فتح کر کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مثیل بن کر عزت واحترام کے ساتھ قادیان میں داخل ہوں گے۔مگر حق یہ ہے کہ مولوی محمد علی صاحب قادیان سے چلے گئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وہ الہامی پیشگوئی پوری ہوئی کہ :۔کئی چھوٹے ہیں جو بڑے کئے جائیں گے اور کئی بڑے ہیں جو چھوٹے کئے جائیں گے پس مقام خوف ہے۔‘۳۰۰ مولوی محمد علی صاحب اور ان کے رفقاء قادیان سے چلے گئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وہ الہام پھر دوسری دفعہ پورا ہوا کہ اُخْرِجَ مِنْهُ الْيَزِيدِيُّونَ» اسے قادیان سے یزیدی لوگ نکالے جاویں گے۔ایک دفعہ تو اس طرح کہ قادیان کے اصل باشندوں نے مسیح موعود علیہ السلام کے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور دوسری دفعہ اس طرح کہ وہ لوگ جو اہل بیت مسیح موعود علیہ السلام سے بغض و تعصب رکھ کر یزیدی صفت بن چکے تھے وہ قادیان سے حکمت الہی کے ماتحت نکالے گئے۔مولوی محمد علی صاحب قادیان سے چلے گئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام إِنِّي مَعَكَ وَمَعَ اَهْلِکَ ۳۲ پورا ہوا اور باوجود ان کے رسوخ اور جماعت کے کاموں پر تسلط کے خدا تعالیٰ نے میرے جیسے ناتواں وضعیف انسان کے مقابلہ پر ان کو نیچا دکھایا۔مولوی محمد علی صاحب قادیان سے چلے گئے اور خدا تعالیٰ نے اپنے زبر دست نشانوں سے ثابت کر دیا کہ میرا سلسلہ شخصیت پر نہیں بلکہ اس کا متکفل میں خود ہوں چاہوں تو اس سے جو ذلیل سمجھا گیا اور بچہ قرار دیا گیا کام لے لوں۔