خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 468
خلافة على منهاج النبوة ۴۶۸ جلد اول بنایا گیا ہے۔انصار اللہ کے متعلق یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے حضرت خلیفۃ المسیح کی وفات کے قریب ایک کارڈ باہر بھیجا تھا کہ حضرت کی طبیعت بہت کمزور ہے اور زندگی کا عرصہ کم معلوم ہوتا ہے جو لوگ زیارت کے لئے آنا چاہیں آ جائیں اس سے ثابت ہوتا ہے کہ انصار اللہ کی سازش تھی۔بے شک انجمن انصاراللہ کے سیکرٹری نے ایسا کارڈلکھا کیونکہ انجمن انصار اللہ کے فرائض میں سے خدمت احباب بھی ایک فرض تھا مگر سوال یہ ہے کہ یہ کارڈ انہوں نے کس کو لکھا۔اگر صرف انصار اللہ کو لکھا جاتا تب بھی کوئی قابل اعتراض بات نہ تھی۔مگر دشمن اپنے عناد سے کہہ سکتا تھا کہ اس کے لکھنے کی اصل غرض یہ تھی کہ اپنے ہم خیال لوگوں کو بلوا لیا جاوے مگر ایسا نہیں کیا گیا۔یہ کارڈ تمام انجمن ہائے احمد یہ کے سیکرٹریوں کو لکھا گیا اور صرف انصار اللہ کے نام نہیں گیا۔پس اس کا رڈ سے اگر خلافت کے متعلق ہی نتیجہ نکالا جاوے تو یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ انجمن انصار اللہ چاہتی تھی کہ جہاں تک ہو سکے اس موقع پر تمام جماعت کے نمائندہ موجود ہوں تا کہ کافی مشورہ ہو سکے۔یہ اس کا فعل قابل تحسین ہے یا قابل ملامت ؟ اور کیا یہ کارڈ ہی انجمن انصار اللہ کی بریت نہیں کرتا ؟ اگر انجمن انصار اللہ کی کوئی سازش ہوتی تو ان کی تمام تر کوشش لوگوں کو یہاں آنے سے روکنے میں صرف ہوتی اور وہ ایسی اطلاع صرف انجمن انصار اللہ کے ممبروں کو دیتے تا کہ من مانی کا رروائی کر سکیں۔مگر انجمن انصار اللہ نے وقت پر سب جماعتہائے احمدیہ کو نہ کہ اپنے خاص معتبروں کو اطلاع کر دی اور اسی کا نتیجہ تھا کہ قریباً دو ہزار آدمی اس موقع پر جمع ہو گیا۔اور پھر کیا یہ درست نہیں کہ حضرت خلیفہ المسیح کی بیماری کے ایام میں دو دفعہ اسی قسم کی اطلاعیں مولوی صدرالدین صاحب کی طرف سے شائع کی گئی تھیں اگر کارڈ سازش تھا تو کیا ان کی تحریر سازش نہ تھی ؟ ایک اور غلط الزام ہمارے بد نام کرنے کے لئے ایک اور ترکیب یہ کی گئی کہ مشہور کیا گیا کہ جولوگ مجمع میں جمع ہوئے تھے وہ پہلے سے سکھائے ہوئے تھے کہ وقت پر میرا نام خلافت کے لئے لے دیں اور اس کا ثبوت یہ دیا جاتا ہے کہ