خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 469
خلافة على منهاج النبوة ۴۶۹ جلد اول مولوی محمد اسماعیل صاحب نے حضرت خلیفہ المسیح کی حیات میں بعض لوگوں سے کہا کہ چالیس آدمی ایسے تیار ہو جاویں جو اس وقت میرے ہاتھ پر بیعت کر لیں۔مجھے اس موقع پر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بعض پیش آمدہ واقعات سے مجبور ہوکر مولوی صاحب موصوف سے ایک قسم کی غلطی ضرور ہوئی اور جس قدر بات حق ہے اُنہوں نے نہایت صفائی سے مجھ سے بیان کر دی ہے۔مولوی صاحب کا بیان ہے کہ مجھ سے ایک دوست نے بیان کیا کہ ہم نے سنا ہے کہ مولوی محمد علی صاحب کو ڈاکٹر مرزا یعقوب صاحب نے کہا کہ آپ خلافت کے لئے تیار ہیں۔لیکن انہوں نے جواب دیا کہ میں اس بوجھ کو نہیں اُٹھا سکتا۔اس پر انہوں نے جواب میں کہا کہ آپ گھبرائیں نہیں ہم سب بندو بست کر لیں گے ( یہ روایت قادیان میں اُن دنوں مشہور تھی اور اس کے ساتھ یہ فقرہ بھی زائد کیا جاتا تھا کہ آخر میں ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ اگر آپ اس بوجھ کو اُٹھانے کیلئے تیار نہیں تو مجھے کھڑا کر دیں اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ یہ روایت کہاں تک درست ہے چونکہ اس کا ثبوت اس وقت تک میرے پاس کوئی نہیں اس لئے میں اس کے باور کرنے سے معذور ہوں۔خاکسار مرزا محمود احمد ) ایسا نہ ہو کہ یہ لوگ وقت پر کوئی چالا کی کریں اور چند آدمیوں کو ملا کر خلافت کا دعویٰ کریں اس کے لئے ہمیں بھی تیار رہنا چاہئے۔وہ کہتے ہیں کہ اس پر میں نے بعض دوستوں سے ذکر کیا کہ ایسا خطرہ ہے ایک جماعت ہم میں سے بھی تیار رہنی چاہئے۔بعض لوگ جن سے ذکر کیا تھا انہوں نے اسے پسند کیا لیکن بعض نے مخالفت کی۔چنانچہ مخالفت کرنے والوں میں سے وہ میاں معراج الدین صاحب کا نام لیتے ہیں انہوں نے بڑا زور دیا کہ یہ کام خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے ایسی کارروائی ہرگز مناسب نہیں۔اسی طرح میر محمد اسحق صاحب کی نسبت بیان کرتے ہیں کہ گوان سے ذکر نہ کیا تھا مگر ایک جگہ پر ایک شخص۔میں گفتگو کر رہا تھا کہ انہوں نے کچھ بات سن لی اور کہا کہ آپ لوگ اس خیال کو جانے دیں ہو گا وہی جو خدا چاہتا ہے۔آپ لوگوں کو آخر شرمندہ ہونا پڑے گا۔ان کا بیان ہے کہ آٹھ دس آدمیوں سے زیادہ سے ایسا ذکر نہیں ہوا اور ان میں سے بہت سے ایسے لوگ تھے جو انجمن انصار اللہ کے ممبر نہ تھے۔لیکن کسی قدر بعض دوستوں کے اس خیال پر کہ یہ کام ނ