خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 467 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 467

خلافة على منهاج النبوة ۴۶۷ جلد اول رائے کے مقابلہ میں سو ڈیڑھ سو آدمی کی رائے کیا حیثیت رکھتی ہے۔انصار اللہ نے خلافت کے متعلق کیا سازش کی اس کے متعلق مولوی محمد علی صاحب کے داہنے باز وحکیم محمد حسین صاحب عرف مرہم عیسی مبلغ احمدیہ انجمن اشاعت اسلام کی شہادت کا درج کر دینا کافی ہے جو اُس نے الزام کے وقت لکھ کر دی۔میں سچے دل سے اس امر کی شہادت دیتا ہوں کہ میں انصار اللہ کا ممبر ایک مدت تک تھا اور اب بھی اگر میاں صاحب نے مجھے انصار اللہ میں سے نہ نکالا تو میں انصار اللہ کا ممبر اپنے آپ کو سمجھتا ہوں۔جس قدر کمیٹیاں انصار اللہ کی لاہور میں ہوئیں اور جن میں میں شامل ہوا میں نے کبھی کسی کو حضرت صاحبزادہ صاحب بزرگوار کے لئے خلیفہ بنانے کی سازش کرتے ہوئے یا اس قسم کی گفتگو کرتے ہوئے نہیں پایا وَاللَّهُ عَلَى مَانَقُولُ شَهِيدٌ اور نہ ہی حضرت صاحبزادہ صاحب بزرگوار کی طرف سے مجھے کبھی کوئی تحریر اس قسم کی آئی کہ جس سے خلیفہ بنانے کی سازش کا کوئی شائبہ پایا گیا ہو اور حضرت صاحبزادہ صاحب کی کوئی اس قسم کی سازش کی گفتگو میرے ساتھ نہیں ہوئی۔“ محمد حسین بقلم خود اس کے علاوہ ماسٹر فقیر اللہ صاحب سپر نٹنڈنٹ دفتر سیکرٹری انجمن احمد یہ اشاعت اسلام بھی انجمن انصار اللہ کے ممبر تھے۔اور انہوں نے بھی شہادت لکھ کر دی ہے کہ میں اس انجمن کا ممبر تھا۔اس میں اس قسم کی سازش پر کبھی کوئی گفتگو میرے سامنے نہیں ہوئی۔علاوہ ازیں یہ بات اس الزام کو پورے طور پر رد کر دیتی ہے کہ انجمن انصار اللہ کے ممبروں میں سے ایک معقول تعداد مولوی محمد علی صاحب کے ساتھ ہے۔اگر یہ انجمن میری خلافت کی سازش کے لئے بنائی گئی تھی تو کیونکر ہو سکتا ہے کی عین اُس وقت جبکہ میں خلیفہ ہو گیا وہ لوگ اُدھر جا ملتے۔اور پھر یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ جو لوگ ان سے جاملے تھے وہ باوجود اس سازش سے آگاہ ہونے کے پھر اسے مخفی رکھتے۔انجمن انصار اللہ میں سے کم سے کم دس آدمی اس وقت ان کے ساتھ ہیں۔ان کا وجود ہی اس بات کی کافی شہادت ہے کہ انجمن انصار اللہ پر خلافت کے متعلق سازش کرنے کا الزام ایک جھوٹ ہے جو محض نفسانیت کے شر سے فریب دہی کے لئے