خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 447 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 447

خلافة على منهاج النبوة ۴۴۷ جلد اول یا کتب جائداد وقف علی الا ولا د ہو۔میرا جانشین متقی ہو۔ہر دلعزیز عالم باعمل۔حضرت صاحب کے پرانے اور نئے احباب سے سلوک چشم پوشی درگز رکو کام میں لا وے۔میں سب کا خیر خواہ تھا وہ بھی خیر خواہ رہے۔قرآن وحدیث کا درس جاری رہے۔والسلام نورالدین۴ / مارچ ۱۹۱۴ء۲۳ جب آپ نے دمیرت کبھی مولوی تو وصیت کا مولوی محمد علی صاحب سے پڑھوانا محمد علی صاحب پاس بیٹھے ہوئے تھے لکھ کر ان کو دی اور کہا کہ اسے پڑھ کر لوگوں کو سنا دیں پھر دوبارہ اور سہ بارہ پڑھوائی اور پھر دریافت فرمایا کہ کیا کوئی بات رہ تو نہیں گئی ؟ مولوی محمد علی صاحب جو اپنے دل میں خلافت کے مٹانے کی فکر میں تھے اور تدابیر سوچ رہے تھے اس وصیت کو پڑھ کر حیران رہ گئے اور اُس وقت ہر ایک شخص ان کے چہرہ پر ایک عجیب قسم کی مردنی اور غصہ دیکھ رہا تھا جو حضرت خلیفہ اسیح کے وصیت لکھوانے کے باعث نہ تھا بلکہ اپنی سب کوششوں پر پانی پھرتا ہوا دیکھنے کا نتیجہ تھا۔مگر حضرت خلیفہ اول کا رُعب ان کو کچھ بولنے نہ دیتا تھا۔باوجود مخالفت خیالات کے انہوں نے اُس وقت یہی لفظ کہے کہ بالکل درست ہے۔مگر آئندہ واقعات بتائیں گے کہ کسی مرید نے کسی خادم نے کسی اظہار عقیدت کرنے والے نے اپنے پیر اور اپنے آقا اور اپنے شیخ سے عین اُس وقت جبکہ وہ بستر مرگ پر لیٹا ہوا تھا اس سے بڑھ کر دھوکا اور فریب نہیں کیا جو مولوی محمد علی صاحب نے کیا۔حضرت خلیفہ المسیح کی خلیفة امسیح کی بیماری میں اختلافی مسائل کا چرچا بیماری کی وجہ سے چونکہ نگرانی اُٹھ گئی تھی اور کوئی پوچھنے والا نہ تھا اختلافی مسائل پر گفتگو بہت بڑھ گئی اور جس جگہ دیکھو یہی چر چا ر ہنے لگا۔اس حالت کو دیکھ کر میں نے ایک اشتہا رلکھا جس کا یہ مضمون تھا کہ جس وقت کہ حضرت خلیفہ اسیح تندرست تھے اختلافی مسائل پر آپس میں ہماری بحثوں کا کچھ حرج نہ تھا۔کیونکہ اگر بات حد سے بڑھے یا فتنہ کا اندیشہ ہو تو روکنے والا موجود تھا لیکن