خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 448 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 448

خلافة على منهاج النبوة ۴۴۸ جلد اول اب جبکہ حضرت خلیفتہ اسی بہار ہیں اور سخت بیمار ہیں مناسب نہیں کہ ہم اس طرح بخشیں کریں اس کا انجام فتنہ ہوگا۔اس لئے اختلافی مسائل پر اُس وقت تک کہ اللہ تعالیٰ حضرت خلیفہ اسیح کو شفاء عطا فرما دے اور آپ خود ان بحثوں کی نگرانی کر سکیں نہ کوئی تحریرلکھی جائے اور نہ زبانی گفتگو کی جاوے تا کہ جماعت میں فتنہ نہ ہو۔ی اشتہار لکھ کر میں نے مولوی محمد علی صاحب کے پاس بھی بھیجا کہ آپ بھی اس پر دستخط کر دیں تا کہ ہر قسم کے خیالات کے لوگوں پر اس کا اثر ہواور فتنہ سے جماعت محفوظ ہو جاوے۔مولوی محمد علی صاحب نے اس کا یہ جواب دیا کہ چونکہ جماعت میں جو کچھ اختلاف ہے اس سے عام طور پر لوگ واقف نہیں ایسا اشتہا ر ٹھیک نہیں اس سے دشمنوں کو واقفیت حاصل ہو گی اور ہنسی کا موقع ملے گا۔بہتر ہے کہ قادیان کے لوگوں کو جمع کیا جاوے اور اس میں آپ بھی اور میں بھی تقریریں کریں اور لوگوں کو سمجھائیں کہ اختلافی مسائل پر گفتگو ترک کر دیں۔گو میں حیران تھا کہ اظہار الحق نامی ٹریکٹوں کی اشاعت کے بعد لوگوں کا جماعت کے اختلاف سے ناواقف ہونا کیا معنی رکھتا ہے مگر میں نے مولوی صاحب کی اس بات کو قبول کر لیا۔میں اُس وقت تک نہیں جانتا تھا کہ یہ بھی ایک دھوکا ہے جو مجھ سے کیا گیا ہے لیکن بعد کے واقعات نے ثابت کر دیا کہ مولوی محمد علی صاحب نے اپنے مدعا کے پورا کرنے کیلئے کسی فریب اور دھو کے سے بھی پر ہیز نہیں کیا اور اس اشتہار پر دستخط کرنے سے انکار کی وجہ یہ نہ تھی کہ عام طور پر معلوم ہو جاوے گا کہ جماعت میں کچھ اختلاف ہے بلکہ ان کی غرض کچھ اور تھی۔ہے خلیفہ مسیح کے ایام بیماری قادیان کے لوگ مسجد نور میں جو سکول کی مسجد۔اور خان محمد علی خان صاحب رئیس مالیر کوٹلہ کی میں ایک خاص اجتماع کوٹھی کے قریب ہے جہاں کہ اُن دنوں حضرت خلیفہ المسیح بیمار تھے جمع ہوئے اور میں اور مولوی محمد علی صاحب تقریر کرنے کے لئے وہاں گئے۔مولوی محمد علی صاحب نے پہلے خواہش ظاہر کی کہ پہلے میں تقریر کروں اور میں بغیر کسی خیال کے تقریر کے لئے کھڑا ہو گیا اور اس میں میں نے وہی اشتہار کا مضمون دوسرے الفاظ میں لوگوں کو سنا دیا اور اتفاق پر زور دیا۔جب مولوی محمد علی صاحب کھڑے ہوئے تو انہوں