خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 446
خلافة على منهاج النبوة ۴۴۶ جلد اول حضرت خلیفۃ المسیح خود تو امام ابو حنیفہ کے وقت میں تھے نہیں ، آپ نے جو کچھ فرمایا ہوگا حنفیوں کی کتابوں سے ہی فرمایا ہوگا۔مگر جس قدر کتب امام ابو حنیفہ کے اقوال کے بیان میں ہیں ان میں سے ایک میں بھی یہ قول درج نہیں پس ایسے بیہودہ قول کو ایسے امام کی طرف منسوب کرنا حضرت خلیفہ اسیح کی طرف منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ضرور ہے کہ یہ مولوی محمد علی صاحب کے دماغ کی اختراع ہو یا حضرت خلیفہ مسیح کی کسی بات کو نہ سمجھ کر انہوں نے اس طرح لکھ دیا ہو۔ان دونوں صورتوں میں یہ رسالہ حضرت خلیفہ اسیح کا پسندیدہ اور ان کے منشاء کے مطابق نہیں ہوسکتا۔یہ تین شاہد اندرونی ہمارے پاس موجود ہیں جو شہادت دیتے ہیں کہ یہ رسالہ حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کا پسندیدہ نہیں۔لیکن ہم ان شواہد کے علاوہ یہ امر بھی دیکھتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ قریبا ایک ماہ حضرت خلیفہ اسیح کی وفات سے پہلے یہ رسالہ حضرت خلیفتہ المسیح کو سنایا گیا ہے اسے شائع آپ کی وفات کے بعد کیا گیا حالانکہ اس کے بعد کا لکھا ہوا ایک مضمون جو اس سے بڑا ہے اس سے پہلے چھاپ کر شائع کیا گیا۔جس معلوم ہوتا ہے کہ کسی خاص حکمت کے ماتحت اس کی اشاعت رو کی گئی تھی اور وہ حکمت ނ اس کے ہوا اور کیا تھی کہ حضرت خلیفہ امسیح کی وفات کا انتظار کیا جا تا تھا۔حضرت خلیفۃ المسیح کی وصیت حضرت خلیفہ اسیح کی بیماری چونکہ زیادہ ہوگئی۔فروری ۱۹۱۴ء میں ڈاکٹروں نے مشورہ دیا کہ آپ قصبہ سے باہر کسی جگہ رہیں تا کہ کھلی ہوا کے مفید اثر سے فائدہ اُٹھا سکیں۔خان محمد علی خان صاحب رئیس مالیر کوٹلہ نے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے رشتہ دامادی رکھتے ہیں اپنی کوٹھی کے ایک حصہ کے خالی کر دینے کا انتظام کر دیا اور آپ وہاں تشریف لے گئے۔چونکہ آپ کی طبیعت زیادہ کمزور ہوتی جارہی تھی میں بھی وہیں جا رہا۔چار مارچ کو عصر کے قریب آپ نے کاغذ و قلم و دوات منگوایا اور لیٹے لیٹے ایک وصیت لکھی۔جس کا مضمون یہ ہے :۔خاکسار بقائمی ہوش وحواس لکھتا ہے لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ میرے بچے چھوٹے ہیں۔ہمارے گھر میں مال نہیں۔ان کا اللہ حافظ ہے۔ان کی پرورش بیتا می و مساکین سے نہیں کچھ قرض حسنہ جمع کیا جائے لائق لڑکے ادا کریں۔