خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 28
خلافة على منهاج النبوة ۲۸ جلد اول ہے نہ اس کی ابتداء ہے نہ انتہاء۔اس نور میں سے ایک ہاتھ نکلا جس میں ایک سفید چینی کے پیالہ میں دودھ تھا جو مجھے پلایا گیا جس کے بعد معاً مجھے آرام ہو گیا اور کوئی تکلیف نہ رہی۔اس قدر حصہ میں نے سنایا تھا اس کا دوسرا حصہ اُس وقت میں نے نہیں سنا یا آب سناتا ہوں وہ پیالہ جب مجھے پلایا گیا تو معا میری زبان سے نکلا ” میری اُمت بھی کبھی گمراہ نہ ہو گی“۔میری اُمت کوئی نہیں تم میرے بھائی ہو مگر اس نسبت سے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ہے یہ فقرے نکلے۔جس کام کو مسیح موعود علیہ السلام نے جاری کیا اپنے موقع پر وہ امانت میرے سپرد ہوئی ہے۔پس دعائیں کرو اور تعلقات بڑھاؤ اور قادیان آنے کی کوشش کرو اور بار بار آؤ۔میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سنا اور بار بار سنا کہ جو یہاں بار بار نہیں آتا اندیشہ ہے کہ اس کے ایمان میں نقص ہو۔اسلام کا پھیلانا ہمارا پہلا کام ہے مل کر کوشش کرو تا کہ اللہ تعالیٰ کے احسانوں اور فضلوں کی بارش ہو۔میں پھر تمہیں کہتا ہوں ، پھر کہتا ہوں اور پھر کہتا ہوں اب جو تم نے بیعت کی ہے اور میرے ساتھ ایک تعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد قائم کیا ہے اس تعلق میں وفاداری کا نمونہ دکھاؤ اور مجھے اپنی دعاؤں میں یا درکھو میں ضرور تمہیں یا درکھوں گا۔ہاں یاد رکھتا بھی رہا ہوں۔کوئی دعا میں نے آج تک ایسی نہیں کی جس میں میں نے سلسلہ کے افراد کے لئے دعا نہ کی ہو مگر اب آگے سے بھی بہت زیادہ یا درکھوں گا۔مجھے کبھی پہلے بھی دعا کے لئے کوئی ایسا جوش نہیں آیا جس میں احمدی قوم کے لئے دعا نہ کی ہو۔پھر سنو! کہ کوئی کام ایسا نہ کرو جو اللہ تعالیٰ کے عہد شکن کیا کرتے ہیں۔ہماری دعائیں یہی ہوں کہ ہم مسلمان جیئیں اور مسلمان مریں۔آمین الفاظ بیعت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل جس طرح پر ہاتھ میں ہاتھ لے کر فرماتے جاتے تھے اور طالب تکرار کرتا تھا اسی طرح پر اب بیعت لیتے ہیں۔اَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَاشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ( تین بار ) آج میں احمدی سلسلہ میں محمود کے ہاتھ پر اپنے اُن تمام گناہوں سے تو بہ کرتا