خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 27
خلافة على منهاج النبوة ۲۷ جلد اول میں انسان ہوں اور کمزور انسان۔مجھ سے کمزوریاں ہوں گی تو تم چشم پوشی کرنا۔تم سے غلطیاں ہوں گی میں خدا تعالیٰ کو حاضر ناظر سمجھ کر عہد کرتا ہوں کہ میں چشم پوشی اور درگزر کروں گا اور میرا اور تمہارا متحد کام اس سلسلہ کی ترقی اور اس سلسلہ کی غرض و غایت کو عملی رنگ میں پورا کرنا ہے پس اب جو تم نے میرے ساتھ ایک تعلق پیدا کیا ہے اس کو وفاداری سے پورا کرو۔تم مجھ سے اور میں تم سے چشم پوشی خدا کے فضل سے کرتا رہوں گا۔تمہیں امر بالمعروف میں میری اطاعت اور فرمانبرداری کرنی ہوگی۔اگر نَعُوذُ بِاللهِ کہوں کہ خدا ایک نہیں تو اُسی خدا کی قسم دیتا ہوں جس کے قبضہ قدرت میں ہم سب کی جان ہے جو وَحْدَهُ لَا شَرِیک اور لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَي لا ہے کہ میری ایسی بات ہرگز نہ ماننا۔اگر میں تمہیں نَعُوذُ بِاللہ نبوت کا کوئی نقص بتاؤں تو مت ما نیو۔اگر قرآن کریم کا کوئی نقص بتاؤں تو پھر خدا کی قسم دیتا ہوں مت مانیو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو خدا تعالیٰ سے وحی پا کر تعلیم دی ہے اس کے خلاف کہوں تو ہر گز ہرگز نہ ماننا۔ہاں میں پھر کہتا ہوں اور پھر کہتا ہوں کہ امر معروف میں میری خلاف ورزی نہ کرنا۔اگر اطاعت اور فرمانبرداری سے کام لو گے اور اس عہد کو مضبوط کرو گے تو یا درکھو اللہ تعالیٰ کا فضل ہماری دستگیری کریگا۔ہماری متحد دعائیں کامیاب ہوں گی اور میں اپنے مولیٰ کریم پر بہت بڑا بھروسہ رکھتا ہوں مجھے یقین کامل ہے کہ کہ میری نصرت ہوگی۔پرسوں جمعہ کے روز میں نے ایک خواب سنایا تھا کہ میں بیمار ہو گیا اور مجھے ران میں درد محسوس ہوا اور میں نے سمجھا کہ شاید طاعون ہونے لگا تب میں نے اپنا دروازہ بند کر لیا اور فکر کرنے لگا کہ یہ کیا ہونے لگا ہے۔میں نے سوچا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے وعدہ کیا تھا اِنِّی أَحَافِظُ كُلَّ مَنْ فِي الدَّارِ سے یہ خدا کا وعدہ آپ کی زندگی میں پورا ہوا۔شاید خدا کے مسیح کے بعد یہ وعدہ نہ رہا ہو کیونکہ وہ پاک وجود ہمارے درمیان نہیں۔اسی فکر میں میں کیا دیکھتا ہوں یہ خواب نہ تھا بیداری تھی میری آنکھیں کھلی تھیں میں درو دیوار کو دیکھتا تھا ، کمرے کی چیزیں نظر آ رہی تھیں میں نے اسی حالت میں اللہ تعالیٰ کو دیکھا کہ ایک سفید اور نہایت چمکتا ہوا نو ر ہے۔نیچے سے آتا ہے اور اوپر چلا جاتا