خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 425 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 425

خلافة على منهاج النبوة ۴۲۵ جلد اول لکھوائے جن کے نوٹ اب تک میرے پاس موجود ہیں۔ان میں خاص طور پر زور دیا گیا تھا کہ غسل خانے مسجد کا جزو نہیں ہیں اور یہ کہ جو لوگ اس موقع پر شورش کر رہے ہیں وہ غلطی پر ہیں اور منافقانہ کا رروائی کر رہے ہیں لیکن منع فرمایا کہ میں ان مضامین میں آپ کی طرف اشارہ کروں اپنی طرف سے شائع کر دوں۔جب یہ مضامین شائع ہوئے تو لوگوں میں عام طور پر یہ پھیلا یا گیا کہ میں نے ان مضامین میں مولوی محمد علی صاحب کو جن کے مضامین پیغام صلح میں شائع ہوئے ہیں گالیاں دی ہیں۔چنانچہ ڈاکٹر محمد شریف صاحب بٹالوی حال سول سرجن ہوشیار پور جو اُس وقت غالباً سرگودھا میں تھے قادیان تشریف لائے تو انہوں نے مجھ سے اس امر کے متعلق ذکر کیا۔میں نے اُن کو جواب دیا کہ یہ مضامین میرے نہیں بلکہ حضرت خلیفۃ اسیح کے لکھوائے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ حضرت خلیفہ اسیح جو مولوی محمد علی صاحب کا اس قدر ادب کرتے ہیں ایسے الفاظ آپ کی نسبت لکھوائیں۔میں نے اُسی وقت وہ اخبار کا پر چہ منگوا کر جس پر ان کو اعتراض تھا اس کے حاشیہ پر یہ لکھ دیا کہ یہ مضمون حضرت خلیفہ مسیح کا لکھوایا ہوا ہے اور جس قد رسخت الفاظ ہیں وہ آپ کے ہی ہیں میں نے اپنی طرف سے نہیں لکھے اور وہ پر چہ ان کو دے دیا کہ آپ اس پر چہ کو حضرت خلیفہ اسیح کے پاس لے جاویں اور ان کے سامنے رکھ دیں۔پھر آپ کو معلوم ہو جاوے گا کہ آیا ان کا لکھایا ہوا ہے یا میرا لکھا ہوا ہے۔وہ اس پر چہ کو آپ کے پاس لے گئے اور چونکہ اُسی وقت انہوں نے واپس جانا تھا پھر مجھے تو نہیں ملے مگر اس پر چہ کو اپنے ایک رشتہ دار کے ہاتھ مجھے بھجوایا اور کہلا بھیجا کہ آپ کی بات درست ہے۔یہ صاحب ایک معزز عہدے دار ہیں اور ہیں بھی مولوی محمد علی صاحب کے ہم خیالوں میں۔میری بیعت میں شامل نہیں۔ان سے قسم دے کر مولوی محمد علی صاحب دریافت کر سکتے ہیں کہ یہ واقعہ درست ہے یا نہیں۔غرض کانپور کی مسجد کا واقعہ جماعت میں ایک مزید تفرقہ کا باعث بن گیا کیونکہ اس کے ذریعہ سے ایک جماعت تو سیاست کے انتہا پسند گروہ کی طرف چلی گئی اور دوسری اس تعلیم پر قائم رہی جو اُ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دی تھی اور خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ مؤخر الذکر جماعت تعداد میں بہت زیادہ تھی۔