خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 424
خلافة على منهاج النبوة ۴۲۴ جلد اول درمیان سے اُٹھ جائے اور احمدی اور غیر احمدی ایک ہو جاویں۔ان اخبارات کے شائع ہوئے ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ مسجد کانپور کا واقعہ کانپور کی ایک مسجد کے غسل خانہ کے گرائے جانے پر مسلمانانِ ہند میں شور برپا ہوا۔جن لوگوں نے اس مسجد کے گرانے پر بلوہ کیا تھا اور مارے گئے اُن کو شہید کا خطاب دیا گیا اور گورنمنٹ کے خلاف بڑے زور سے مضامین لکھے گئے۔پیغام صلح نے بھی ان اخبارات کا ساتھ دیا جو اُس وقت گورنمنٹ کے خلاف لکھ رہے تھے۔حضرت خلیفۃ اسیح سے خاص آدمی بھیج کر رائے طلب کی گئی اور مولوی محمد علی صاحب سے مضمون لکھوائے گئے۔مولوی محمد علی صاحب کے مضامین تو صریح فسادیوں کی حمایت میں تھے مگر خلیفہ امسیح کی صائب رائے کو اس طرح بگاڑ کر شائع کیا گیا کہ اس کا مطلب اور کا اور بن گیا اور اس سے یہ نتیجہ نکالا گیا کہ گورنمنٹ نے اس موقع پر نہایت نا واجب سختی سے کام لیا ہے اور مسجد کا گرانا درست نہ تھا حالانکہ آپ نے مجھے یہ لکھوایا تھا کہ غسل خانہ مسجد میں نہیں اور شور وفساد میں لوگوں کو حصہ نہیں لینا چاہئے۔جب پیغام صلح کے یہ مضامین حضرت خلیفہ امسیح الاوّل کو دکھائے گئے تو آپ نے ان کو نہایت نا پسند کیا اور خود دو مضامین مجھ سے بقیه حاشیه از صفحه گزشته خلافت مدعا جوید که ما از آن سلطانیم اخوت بر ملا گوید که او از آن ما باشد حذر اے دشمنان ملت بیضا ازاں ساعت که در دست امیر مالوائے مصطفی باشد مولوی ظفر علی خان صاحب ایڈیٹر زمیندار کی مراجعت لاہور ,, پیغام جلد نمبر انمبر ۸) جیسا کہ ہم ۳ را گست کی اشاعت میں مختصر اطلاع شائع کر چکے ہیں اس اتوار کی صبح کو قریباً ساڑھے نو بجے مولوی ظفر علی صاحب بھی میل سے مَعَ الخَيْر لاہور پہنچے۔احمد یہ بلڈنکس کے پاس پہنچ کر حلقہ احباب نے بڑے جوش کے ساتھ مکر می خواجہ کمال الدین صاحب کے لیے دعائیہ نعرے مارے“۔( پیغام جلد نمبر انمبر ۱۲ صفحه ۲ )