خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 423 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 423

خلافة على منهاج النبوة ۴۲۳ جلد اوّل معلوم ہوا کہ لا ہور سے ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب ، ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب اور شیخ رحمت اللہ صاحب بھی ایک اخبار نکالنے کی تجویز کر رہے ہیں۔چنانچہ اس بات کا علم ہوتے ہی میں نے حضرت خلیفہ امسیح کو ایک رقعہ لکھا جس کا مضمون یہ تھا کہ لاہور سے مجھے اطلاع ملی ہے کہ فلاں فلاں احباب مل کر ایک اخبار نکالنے لگے ہیں چونکہ میری غرض تو اس طرح بھی پوری ہو جاتی ہے حضور ا جازت فرما دیں تو پھر اس اخبار کی تجویز رہنے دی جاوے۔اس کے جواب میں جو کچھ حضرت خلیفہ اُسی نے تحریر فرمایا اس کا مطلب یہ تھا کہ اس اخبار اور اُس اخبار کی اغراض میں فرق ہے آپ اس کے متعلق اپنی کوشش جاری رکھیں۔اس ارشاد کے ماتحت میں بھی کوشش میں لگا رہا۔پیغام صلح اور الفضل کا اجراء جون ۱۹۱۳ء کے ابتداء میں پیغام صلح لاہور میں شائع ہوا اور وسط میں’الفضل‘ قادیان سے نکلا۔بظاہر تو سینکڑوں اور اخبارات ہیں جو پہلے سے ہندوستان میں نکل رہے تھے دو اور اخبارات کا اضافہ معلوم ہوتا تھا مگر در حقیقت احمدی جماعت کی تاریخ میں ان اخبارات کے نکلنے نے ایک اہم بات کا اضافہ کر دیا۔پیغام صلح کی روش پیغام صلح کے نکلنے سے وہ مواد جو خفیہ خفیہ جماعت میں پیدا ہورہا تھا پھوٹ پڑا اور کھلے بندوں سلسلہ کی خصوصیات کو مٹانے کی کوشش کی جانے لگی۔قادیان کی جماعت خاص طور پر سامنے رکھ لی گئی اور سلسلہ کے دشمنوں سے صلح کی داغ بیل پڑنے لگی۔اصل غرض تو شاید اس رسالہ سے خواجہ صاحب کے مشن کی تقویت تھی مگر طبعاً ان مسائل کو بھی چھیڑ نا پڑ گیا جو مَـابِـهِ النزاع تھے۔غیر احمد یوں میں اس اخبار کی اشاعت کی غرض سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مرزا صاحب علیہ الرحمۃ لکھا جانے لگا اور دشمنانِ سلسلہ کی تعریف کے گیت گائے جانے لگے۔ترکوں کے بادشاہ کو خلیفہ المسلمین " کے لقب سے یاد کیا جانے لگا۔غرض پوری کوشش کی گئی کہ احمدیت کا نام تر لا کی شہوار یعنی وہ اشعار آبدار جو مولوی ظفر علی خان صاحب ایڈیٹر زمیندار نے ۲۴ رجب کو بارگاہِ سلطان المعظم میں پڑھ کر سنائے۔