خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 422
خلافة على منهاج النبوة ۴۲۲ جلد اول خواجہ صاحب نے بالکل پتہ نہیں چلنے دیا کہ وہاں کسی قسم کی تبلیغ کر رہے ہیں ) مگر یہ سب اعلانات احمد یوں میں ہی تھے۔غیر احمدیوں کو یہی بتایا جا تا تھا کہ تبلیغ عام اسلامی اصول کے مطابق ہو رہی ہے اس لئے سب کو چندہ دینا چاہئے اور اس کارِ خیر میں حصہ لینا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک پیشگوئی کے جب خواجہ صاحب ولایت پہنچے ہیں تو اُس وقت پورا ہونے پر خواجہ صاحب کا اس کا ذکر نہ کرنا بلقان وار ( جنگ بلقان ) شروع تھی۔خواجہ صاحب نے اس کے متعلق ایک ٹریکٹ لکھا اور اس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام غُلِبَتِ الرُّومُ فِى أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِّنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ لکھ کر ترکوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی خبر دی۔ہم لوگ تو اس خبر کوسن کر بہت خوش ہوئے کہ خواجہ صاحب آخر اصل راستہ کی طرف آگئے ہیں لیکن کچھ ہی دن کے بعد جب ایک دو انگریزوں کے مسلمان ہونے پر غیر احمدیوں نے خواجہ صاحب کی مدد شروع کی اور ان کو یہ بھی بتایا گیا کہ سلسلہ کا ذکر کرنے سے ان کی مددرُک جاوے گی تو وہی خواجہ صاحب جنہوں نے پیشگوئی کے پورا ہونے سے پہلے اس کا اعلان بلا د ترکیہ میں کیا تھا اس کے پورا ہونے پر ایسے خاموش ہوئے کہ پھر اس پیشگوئی کا نام تک نہ لیا۔احمد یہ پریس کے مضبوط کرنے کا خیال ۱۹۱۳ ء میں دو اور اہم واقعات ہوئے۔حج سے واپسی کے وقت مجھے قادیان کے پریس کی مضبوطی کا خاص طور پر خیال پیدا ہوا جس کا اصل محرک مولوی ابوالکلام صاحب آزاد کا اخبار ” الہلال“ تھا جسے احمدی جماعت بھی کثرت سے خریدتی تھی اور خطرہ تھا کہ بعض لوگ اس کے زہریلے اثر سے متاثر ہو جاویں۔چنانچہ میں نے اس کے لئے خاص کوشش شروع کی اور حضرت خلیفہ اسیح سے اس امر کی اجازت حاصل کی کہ قادیان سے ایک نیا اخبار نکالا جائے جس میں علاوہ مذہبی امور کے دنیاوی معاملات پر بھی مضامین لکھے جاویں تا کہ ہماری جماعت کے لوگ سلسلہ کے اخبارات سے ہی اپنی سب علمی ضروریات کو پورا کر سکیں۔جب میں حضرت خلیفہ المسیح سے اجازت حاصل کر چکا تو مجھے