خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 420
خلافة على منهاج النبوة ۴۲۰ جلد اول جار ہے ہیں۔اگر خواجہ صاحب بغیر کسی ایسے اعلان کے ولایت چلے جاتے تو کیا لوگوں کو معلوم ہو جاتا کہ خواجہ صاحب فلاں شخص کے بھیجے ہوئے جا رہے ہیں۔غیر احمدی سب کے سب اور احمدی اکثر اس واقعہ سے ناواقف تھے اور جو واقف تھے وہ اس اعلان سے دھوکا کھا نہیں سکتے تھے۔پھر اس اعلان کے سوائے جھوٹے فخر کے اور کیا مد نظر تھا - يُحبون أن يُحْمَدُوا بِمَالَمْ يَفْعَلُوا ل غرض خواجہ صاحب ولایت روانہ ہو گئے اور پیچھے ان کے دوستوں نے بڑے زور سے اس امر کی اشاعت شروع کی کہ خواجہ صاحب اپنا کام تباہ کر کے صرف تبلیغ دین کیلئے ولایت چلے گئے ہیں ان کی مدد مسلمانوں پر فرض ہے۔دو سال کا خرچ تو خواجہ صاحب کے پاس تھا ہی اس عرصہ کے بعد اگر وہاں زیادہ ٹھہر نے کا منشاء ہو تو اس کے لئے ابھی سے کوشش کر دی گئی۔خواجہ صاحب کے اس طرح خواجہ صاحب کے ولایت جانے کا اثر ولایت جانے پر وہ جوش جو خواجہ صاحب کے خلاف جماعت میں پھیل رہا تھا کہ وہ سلسلہ کی تبلیغ نہیں کرتے اور ایسے طریق کو اختیار کر رہے ہیں جس سے سلسلہ کی خصوصیات کے مٹ جانے کا اندیشہ ہے دب گیا اور خواجہ صاحب کی اس قربانی پر ایک دفعہ پھر جماعت خواجہ صاحب کے گرد جمع ہو گئی مگر بہت کم تھے جو حقیقت حال سے واقف تھے۔سفر مصر اور خاص دعا ئیں اُن ہی دنوں میں مجھے مصر کے راستہ سے حج کے لئے جانے کا موقع ملا۔گو میرا ارادہ ایک دو سال مصر میں ٹھہرنے کا تھا مگر حج کے بعد مصر جانے میں کچھ ایسی روکیں پیدا ہوئیں کہ میں نے واپس آجانا مناسب سمجھا۔اس سفر میں دعاؤں کے ایسے بیش بہا مواقع نصیب ہوئے کہ میں سمجھتا ہوں کہ جماعت احمدیہ کو قدم ثبات حاصل ہونے میں ایک حصہ ان دعاؤں کا بھی : ہے۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَلِكَ۔