خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 419 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 419

خلافة على منهاج النبوة ۴۱۹ جلد اول ,, ،، اس امر کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے۔آپ فرماتے ہیں :۔(۵) بقدر طاقت اپنی کے دین کی خدمت وہاں ضرور کرو۔ھے خواجہ صاحب چونکہ شہرت کے خواہش مند ہمیشہ سے چلے آئے ہیں انہوں نے اس موقع کو غنیمت جان کر اصل معاملہ کو پوشیدہ رکھ کر یہ مشہور کرنا شروع کیا کہ انہوں نے اس سفر ولایت میں تبلیغ کی خاص ضرورت محسوس کی ہے اور اس کے لئے وہ اپنی چلتی ہوئی پریکٹس چھوڑ کر محض اعلائے کلمتہ اللہ کے لئے ولایت جاتے ہیں۔اصل واقعات کا تو بہت کم لوگوں کو علم تھا اس خبر کا مشہور ہونا تھا کہ چاروں طرف سے خواجہ صاحب کی اس قربانی پر صدائے تحسین و آفرین بلند ہونی شروع ہوگئی اور اپنی زندگی میں ہی ایک مذہبی شہید کی صورت میں وہ دیکھے جانے لگے۔مگر صرف زبانی روایات پر ہی اکتفا نہ کر کے خواجہ صاحب نے اخبار ”زمیندار“ میں ایک اعلان کرایا کہ لوگوں کا خیال ہے کہ مجھے کوئی سیٹھ یا انجمن یا کوئی غیر احمدی رئیس ولایت بھیج رہا ہے یہ بات بالکل غلط ہے۔میں تو اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے اپنا کام چھوڑ کر جا رہا ہوں۔اس اعلان کے الفاظ میں یہ احتیاط کر لی گئی تھی کہ رئیس کے لفظ کے ساتھ غیر احمدی کا لفظ بڑھا دیا گیا تھا اور اب بظا ہر اعتراض سے بچنے کی گنجائش رکھ لی گئی تھی۔کیونکہ ان کو بھیجنے والا نہ سیٹھ تھا نہ انجمن نہ غیر احمدی رئیس بلکہ ایک احمدی رئیس نے ان کو بھجوایا تھا۔مگر خواجہ صاحب کا یہ منشاء نہ تھا کہ لوگوں کا ذہن ایک احمدی رئیس کی طرف پھرے بلکہ یہ تھا کہ لوگ یہ سمجھیں کہ وہ کسی مالدار شخص سے فیس لے کر کسی دنیاوی کام پر ولایت نہیں جار ہے بلکہ اپنی پریکٹس کو چھوڑ کر خدا کا نام پھیلانے کیلئے اور شرک کو مٹانے کیلئے اپنے خرچ پر ولایت جا رہے ہیں۔ترسم کہ نے رسی بکعبہ اے اعرابی این راه که تو میروی بترکستان است کہا جاتا ہے کہ بھیجنے والے صاحب یہ نہیں چاہتے تھے کہ کسی کو معلوم ہو کہ و ہ خواجہ صاحب کو بھیج رہے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ کیا وہ یہ چاہتے تھے کہ جھوٹ طور پر یہ بھی مشہور کیا جا وے کہ خواجہ صاحب اپنی پریکٹس کو چھوڑ کر اپنے خرچ پر صرف تبلیغ کیلئے ولایت