خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 421 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 421

خلافة على منهاج النبوة ۴۲۱ جلد اول حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک کشف خواجہ صاحب کو ولایت گئے ابھی کچھ زیادہ عرصہ نہ کو خواجہ صاحب کا اپنے اوپر چسپاں کرنا گزرا تھا کہ ان کو ایک ہندوستانی مسلمان کی یورپین بیوی سے جس کا ایک مسلمان سے بیاہ اُسے اسلام کے قریب کر ہی چکا تھا ملاقات کا موقع ملا۔خواجہ صاحب کے مزید سمجھانے پر اس نے اسلام کا اعلان کر دیا۔خواجہ صاحب نے اس کا خوب اعلان کیا اور لوگوں کو عام طور پر توجہ ہو گئی کہ خواجہ صاحب ایک عمدہ کام کر رہے ہیں۔احمدیوں کی توجہ حاصل کرنے کیلئے خواجہ صاحب نے یہ لکھنا شروع کیا کہ یہ عورت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک کشف کے ماتحت مسلمان ہوئی ہے۔اس کشف کا مضمون یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ولایت گئے ہیں اور وہاں سفید رنگ کے کچھ پرندے پکڑے ہیں۔چنانچہ اصل الفاظ یہ ہیں :۔میں نے دیکھا کہ میں شہر لنڈن میں ایک منبر پر کھڑا ہوں اور انگریزی زبان میں ایک نہایت مدلل بیان سے اسلام کی صداقت ظاہر کر رہا ہوں۔بعد اس کے میں نے بہت سے پرندے پکڑے جو چھوٹے چھوٹے درختوں پر بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے رنگ سفید تھے اور شاید تیتر کے جسم کے موافق اُن کا جسم ہوگا۔سو میں نے اس کی یہ تعبیر کی کہ اگر چہ میں نہیں مگر میری تحریر میں ان لوگوں میں پھیلیں گی اور بہت سے راستباز انگریز صداقت کا شکار ہو جائیں گے۔“کے اس کشف کا مضمون ہی بتاتا ہے کہ یہ کشف خواجہ صاحب کے ہاتھ پر پورا نہیں ہوا کیونکہ کشف تو بتا تا ہے ہے کہ پرندے مسیح موعود علیہ السلام نے پکڑے ہیں حالانکہ خواجہ صاحب نے جن لوگوں کو مسلمان بنایا اُن کا تعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ہرگز نہیں کرایا۔وہ اسلام جس کی تلقین خواجہ صاحب کرتے رہے ہیں اس میں تو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری بھی شامل ہیں۔غرض گو اس کشف کا تعلق خواجہ صاحب سے کچھ بھی نہ تھا جیسا کہ بعد کے تجربہ سے ثابت ہوا وہ احمدیوں میں اپنی مقبولیت بڑھانے کے لئے اس کشف کی اشاعت کرتے رہے۔( شروع میں ایک عرصہ تک