خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 418
خلافة على منهاج النبوة ۴۱۸ جلد اول کے لوگ مجھ سے ناواقف تھے اور کانپور میں بوجہ پنجابی سوداگروں کی کثرت کے ہماری خاندانی وجاہت سے ایک طبقہ آبادی کا واقف تھا۔اس واقفیت کی وجہ سے وہ آگئے اور لیکچر سن کر حق نے ان کے دل پر اثر کیا اور پہلا لگا ؤ اور بھی بڑھ گیا۔غرض جیسا کہ میں نے اوپر ذکر کیا ہے جماعت اُس خواجہ صاحب کا سفر ولایت وقت عجیب قسم کے اضداد خیالات میں سے گزر رہی تھی اور یہ حالت برابر ایک دو سال تک اسی طرح رہی یہاں تک کہ ۱۹۱۲ء آ گیا۔اس سال کو سلسلہ کی تاریخ میں ایک خاص اہمیت حاصل ہے کیونکہ اس میں بعض ایسے تغیرات نمودار ہوئے کہ جنہوں نے آئندہ تاریخ سلسلہ پر ایک بہت بڑا اثر ڈالا ہے اور جو میرے نز دیک اختلافات سلسلہ کی بنیا در رکھنے والا سال ثابت ہوا ہے۔وہ واقعات یہ ہیں کہ اس سال خواجہ صاحب کی بیوی فوت ہو گئی۔خواجہ صاحب کو چونکہ اس سے بہت تعلق اور انس تھا اس غم کو غلط کر نے کے لئے انہوں نے ہندوستان کا ایک لمبا دورہ کرنے کی تجویز کی اور اس دورہ کی نسبت ظاہر کیا گیا کہ جماعت کے کاموں کے لئے چندہ جمع کرنے کے لئے ہے۔یہ وفد مختلف علاقہ جات میں گیا اور آخر کئی شہروں کا دورہ کرتے ہوئے بمبئی پہنچا۔بمبئی میں ایک احمدی رئیس کے گھر پر یہ وفد ٹھہرا۔ان صاحب کو اُن دنوں کوئی کام ولایت میں در پیش تھا جس کے لئے وہ کسی معتبر آدمی کی تلاش میں تھے۔انہوں نے خواجہ صاحب کو ایک بھاری رقم کے علاوہ کرایہ وغیرہ بھی دینے کا وعدہ کیا کہ وہ ولایت جا کر ان کے کام کیلئے سعی کریں۔سفر ولایت جو دل بستگی ہندوستانیوں کے لئے رکھتا ہے اس نے خواجہ صاحب کو اس موقع کو ہاتھ سے نہ جانے کی ترغیب دی اور انہوں نے اس تجویز کو غنیمت جانا اور فوراً ولایت جانے کی تجویز کر دی۔چنانچہ بدر اسی امر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنے ۵ دسمبر ۱۹۱۲ء کے پر چہ میں لکھتا ہے :۔اس سفر میں خواجہ صاحب کیلئے خدا تعالیٰ نے کچھ ایسے اسباب مہیا کر دیئے ہیں کہ وہ انگلینڈ تشریف لے جاتے ہیں“۔حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل نے جو نصائح خواجہ صاحب کو چلتے ہوئے کیں ان میں بھی