خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 417
خلافة على منهاج النبوة ۴۱۷ جلد اول لوگ بھی موجود ہیں تو خود بخود وہ ادھر متوجہ ہو جاویں گے اور اُس وقت ان کو اصل حال سے آگاہ کیا جا سکتا ہے۔خواجہ صاحب کے طرز عمل کی غلطی پہلے خواجہ صاحب کی حقیقت کھو لنے کیلئے ضروری ہے کہ ان ہی کے ایجاد کردہ طریق سے ان کا مقابلہ کیا جاوے۔مگر یہ ان کا خیال غلط تھا۔اگر وہ اس رستہ پر پڑ جاتے تو ضرور کچھ مدت کے بعد اسی رنگ میں رنگین ہو جاتے جس میں خواجہ صاحب رنگین ہو چکے تھے اور آخر احمدیت سے دور جا پڑتے۔ان کی نجات اسی میں تھی کہ پہلے کی طرح ہر موقع مناسب پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعاوی کو پیش کرتے اور لوگوں کے آنے یا نہ آنے کی پرواہ نہ کرتے۔اور یہ بھی ایک وہم تھا کہ لوگ سنیں گے نہیں لوگ عموماً شخصیت کی وجہ سے آتے ہیں نہ مضمون لیکچر کے سبب سے۔ایک مشہور شخص ایک معمولی سے معمولی امر کے متعلق لیکچر دینے کے لئے کھڑا ہو جاوے لوگ اُسی پر اکٹھے ہو جاویں گے یہ اور بات ہے کہ پیچھے اس پر جرح وقدح کریں۔کانپور میں لیکچر مثلاً اسی سفر میں میرا لیکچر کانپور میں ہوا۔چونکہ اشتہار میں کھول کر بتایا گیا تھا کہ لیکچر سلسلہ احمدیہ کے امتیازات پر ہو گا۔خیال تھا کہ لوگ شاید سننے نہ آویں گے مگر لوگ بہت کثرت سے آئے اور جو جگہ تیار کی گئی تھی وہ بالکل بھر گئی اور بہت سے لوگ کھڑے رہے ڈیڑھ ہزار یا اس سے بھی زیادہ کا مجمع ہوا۔اور عموماً تعلیم یافتہ لوگ اور حکام اور تاجر اس میں شامل ہوئے اور اڑھائی گھنٹہ تک نہایت شوق سے سب نے لیکچر سنا اور جب میں بیٹھ گیا تو تب بھی لوگ نہ اُٹھے اور انہوں نے خیال کیا کہ شاید یہ سانس لینے کے لئے بیٹھے ہیں آخر اعلان کیا گیا کہ لیکچر ختم ہو چکا ہے اب سب صاحبان تشریف لے جاویں تب لوگوں نے شور مچایا کہ ان کو کھڑا کیا جاوے کہ بہت سے لوگ مصافحہ کرنا چاہتے ہیں اور میں نے دیکھا کہ وہ لوگ جو دن کے وقت ہمارے منہ پر ہمیں کا فر کہہ کر گئے تھے بڑھ بڑھ کر علاوہ مصافحہ کرنے کے میرے ہاتھ بھی چومتے تھے لکھنو اور بنارس میں لوگوں کے کم آنے کی اور کانپور میں زیادہ آنے کی وجہ میں سمجھتا ہوں یہی تھی کہ لکھنو اور بنارس