خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 406
خلافة على منهاج النبوة ۴۰۶ جلد اول کیلئے نہایت خطرناک تھا۔بعض احمدی لیکچرار مسیح موعود علیہ السلام کا ذکر کھلے طور پر کرنے سے ہچکچانے لگے اور جب کوئی سوال بھی کرتا تو ایسے رنگ میں جواب دیا جاتا کہ جس۔مضمون کی پوری طرح تشریح نہ ہوتی تھی۔یہ بات مداہنت کے طور پر نہ تھی نہ منافقت کے باعث بلکہ یہ لوگ خواجہ صاحب کی اتباع میں یہ خیال کرتے تھے کہ اس طرح سلسلہ کی اشاعت میں زیادہ آسانیاں پیدا ہوں گی۔جو واعظ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذکر کرتے بھی تھے تو وہ بھی ایسے پیرا یہ میں کہ جو مضامین غیر احمدیوں کو اشتعال دلانے والے ہیں ان کا ذکر بیچ میں نہ آوے مگر سب کی سب جماعت اس خیال کی نہ تھی۔ایک حصہ ایسا بھی تھا جو خواجہ صاحب کے طریق عمل کو خوب سمجھتا تھا اور اس کی طرف سے خواجہ صاحب پر سوال ہونا شروع ہوا کہ وہ کیوں اپنے لیکچروں میں کبھی بھی سلسلہ کا ذکر نہیں کرتے۔اس کا جوب خواجہ صاحب ہمیشہ عبدالحکیم مرتد کے ہم نوا ہو کر یہی دیا کرتے تھے کہ پہلے بڑے بڑے مسائل طے ہو جاویں پھر یہ مسائل آپ حل ہو جاویں گے۔جب یہ لوگ ہمیں خدمت اسلام کرتے دیکھیں گے کیا ان کے دلوں میں یہ خیال پیدا نہ ہوگا کہ یہی لوگ حق پر ہیں؟ میں تو سڑک صاف کر رہا ہوں۔جنگل کے درخت کاٹ رہا ہوں ٹیلوں کو برابر کر رہا ہوں۔جب سڑک تیار ہو جاوے گی۔جنگل کٹ جاوے گا۔زمین صاف ہو جاوے گی پھر وقت آوے گا کہ ریل چلائی جاوے کھیتی کی جاوے۔باغ لگایا جاوے۔مگر جب سوال کیا جاتا ہے کہ اگر پہلے جنگل کے کاٹنے کی ضرورت تھی اور سڑکوں کی تیاری کا وقت تھا تو خدا تعالیٰ نے کیوں اس وقت مسیح موعود علیہ السلام کو بھیج کر دنیا کو فتنہ میں ڈال دیا ؟ ہم یہ نہیں کہتے کہ آپ ہر ایک لیکچر میں صرف یہی ذکر کریں لیکن بحصہ رسدی اس ضروری صداقت کا بھی تو اظہار ہونا چاہئے۔اس کا جواب نہ خواجہ صاحب دے سکتے تھے نہ دیتے تھے۔وہ اس پر یہی کہہ دیا کرتے کہ میں کسی کو کب منع کرتا ہوں میں راستہ صاف کرتا ہوں کوئی اور شخص ان امور پر لیکچر دیتا پھرے۔۲۷ مارچ ۱۹۱۰ء کا لیکچر چنانچہ ان واقعات کو دیکھ کر مجھے ۲۷ مارچ ۱۹۱۰ء کوایک لیکچر دینا پڑا۔جس میں میں نے اس طریق کی غلطی سے جماعت کو آگاہ کیا۔جس کا یہ نتیجہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کے ایک حصہ میں