خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 377
خلافة على منهاج النبوة ۳۷۷ جلد اوّل پائی جائے۔مسلمانوں نے قومی لحاظ سے تنزّل ہی اُس وقت کیا ہے جب ان میں خلافت نہ رہی۔جب خلافت نہ رہی تو وحدت نہ رہی اور جب وحدت نہ رہی تو ترقی رُک گئی اور تنزل شروع ہو گیا۔کیونکہ خلافت کے بغیر وحدت نہیں ہو سکتی اور وحدت کے بغیر ترقی نہیں ہوسکتی۔ترقی وحدت کے ذریعہ ہی ہو سکتی ہے۔جب ایک ایسی رہتی ہوتی ہے جو کسی قوم کو باندھے ہوئے ہوتی ہے تو اُس قوم کے کمزور بھی طاقتوروں کے ساتھ آگے بڑھتے جاتے ہیں۔دیکھو! اگر شاہ سوار کے پیچھے ایک چھوٹا لڑکا بٹھا کر باندھ دیا جائے تو لڑکا بھی اُسی جگہ پہنچ جائے گا جہاں شاہ سوار کو پہنچنا ہو گا یہی حال قوم کا ہوتا ہے۔اگر وہ ایک رستی میں بندھی ہو تو اس کے کمزور افراد بھی ساتھ دوڑے جاتے ہیں۔لیکن جب رستی کھل جائے تو گو کچھ دیر تک طاقتور دوڑتے رہتے ہیں لیکن کمزور پیچھے رہ جاتے ہیں اور آخر کا ر نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کئی طاقتور بھی پیچھے رہنے لگ جاتے ہیں۔کیونکہ کئی ایسے ہوتے ہیں جو کہتے ہیں فلاں جو پیچھے رہ گئے ہیں ہم بھی رہ جائیں۔پھر ان لوگوں میں جو آگے بڑھنے کی طاقت رکھتے اور آگے بڑھتے ہیں چلنے کی قابلیت نہیں رہتی۔مگر قومی اتحاد ایسا ہوتا ہے کہ ساری قوم کی قوم چٹان کی طرح مضبوط ہوتی ہے اور اس کی وجہ سے کمزور بھی آگے بڑھتے جاتے ہیں۔جیسا کہ میں نے بتایا تھا سورۃ نور میں اسلام کی اور انسان کی روحانی ترقیات کے ذرائع کا ذکر ہے۔ان ذرائع میں سے بعض کا تو پہلے ذکر آچکا ہے اور ایک ذریعہ اس آیت میں بیان کیا گیا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے وقدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وعملوا الصلحت لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وعدہ فرمایا ہے اللہ نے اُن لوگوں سے جو تم میں سے ایمان لائے اور عمل صالح کئے (اور یہ وعدہ معمولی نہیں بلکہ خدا تعالیٰ اپنی ذات کی قسم کھا کر فرماتا ہے) کہ ان کوضرور ضرور خلیفہ بنائے گا اس زمین میں جیسا کہ اس نے خلیفہ بنا یا تم سے پہلوں کو۔اس میں یہ بتایا ہے کہ خدا نے مومنوں سے یہ وعدہ کیا ہے۔آگے اس وعدہ کی خصوصیات بیان فرماتا ہے۔وليُمَكّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ۔وہ ضرور قائم کر دے گا ، ثابت کر دے گا ان کے لئے ان کے دین کو جو ان کے لئے پسند کیا گیا۔یہ ایک سلوک